اسلام آباد: سینیٹ کے غیرحتمی غیرسرکاری نتائج کی آمد کا سلسلہ شروع ہوگیا. وفاقی دارالحکومت میں ن لیگ اور فاٹا اتحاد کامیاب قرار پایا۔

تفصیلات کے مطابق سینیٹ کے انتخابی معرکے کے لیے پولنگ کا عمل صبح 9 بجے شروع ہوا جو بغیر کسی وقفے کے شام 4 بجے تک جاری رہا، ووٹنگ قومی اسمبلی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں میں ہوئی۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے جاری کیے گئے ضابطہ اخلاق کے مطابق اراکین کے پولنگ اسٹیشن میں موبائل فون لانے پر پابندی عائد رہی، جبکہ بیلٹ پیپر اور ووٹ کی رازداری کو بھی یقینی بنایا گیا۔

اسلام آباد اور فاٹا کے نتائج
اب نتائج موصول ہونے کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے، اسلام آباد کی 2 نشستوں پر ن لیگ کے حمایت یافتہ امیدوار کامیاب قرار پائے. ن لیگ کے حمایت یافتہ مشاہد حسین سید اور اسدجونیجو سینیٹر منتخب ہوچکے ہیں.

یاد رہے کہ قومی اسمبلی میں‌ ارکان کی تعداد 342 ہے، یہاں جنرل اور ٹیکنو کریٹ کی ایک ایک نشست پر سینیٹر کے لیے اانتخاب ہوا. ہرسینیٹر کو جیت کے لیے 171 ووٹ درکار تھے۔ نتائج کے مطابق دونوں‌ نشستوں‌پر ن لیگ کے حمایت یافتہ امیدوار کامیاب رہے.

دوسری جانب قومی اسمبلی میں‌ فاٹا اتحاد کے چار امیدوار بھی جیتنے میں کامیاب رہے۔ یاد رہے کہ قومی اسمبلی میں فاٹا ارکان کی تعداد گیارہ ہے۔ فاٹا سے سینیٹ کے چار امیدواروں کے لیے قومی اسمبلی کے فاٹا ارکان ہی کو ووٹ دینے کا استحقاق تھا.

اب تک موصول ہونے نتائج کے مطابق ان نشستوں‌ پر مرزا محمد آفریدی، ہدایت اللہ، شمیم آفریدی اور ہلال الرحمان کامیاب قرار پائے ہیں. فاٹا کے چاروں امیدواروں نے 7،7ووٹ حاصل کئے.

پنجاب میں معرکہ کس کے نام رہا؟

پنجاب اسمبلی میں ہونے والی پولنگ کے نتائج بھی سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں. موصولہ اطلاعات کے مطابق پنجاب سے (ن) لیگ کے حمایت یافتہ 11 امیدوار کامیاب ہوگئے ہیں۔

یاد رہے کہ پنجاب اسمبلی میں ارکان کی تعداد 371 ہے۔ یہاں‌ سے منتخب ہونے والے 7 امیدواروں میں ہر امیدوار کو کامیابی کے لیے 53 ووٹ درکار تھے۔ خواتین کی دو، علما اور ٹیکنوکریٹس کی دو اور اقلیتوں کی ایک نشست پر سب سے زیادہ ووٹ لینے والے سینیٹرز براہ راست منتخب ہوئے.

جنرل نشست پر مسلم لیگ ن کے حمایت یافتہ مصدق ملک، زبیر گل، شاہین خالد بٹ، ڈاکٹر آصف کرمانی، رانا مقبول احمد اور ہارون اختر فاتح ٹھہرے. ایک جنرل نشست پر رانا محمود الحسن اور چوہدری سرور کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔ خواتین کی نشستوں پر سعدیہ عباسی اور نزہت صادق نے میدان مارا. ٹیکنو کریٹ سیٹ پر خزانہ اسحاق ڈار اور حافظ عبدالکریم کا کامیاب قرار پائے.اقلیت کی نشست پر کامران مائیکل کامیاب ٹھہرے.