وفاقی وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی نے انکشاف کیا ہے کہ اسلام آباد کے بڑے تعلیمی اداروں میں 75 فیصد طالبات اور 45 فیصد طلبا آئس کرسٹل کا نشہ کرتے ہیں۔ والدین کو بچوں کو موبائل فون یا دیگر اشیا دینے سے پہلے جاننا ہوگا اس پر بچے کیا کر رہے ہیں۔وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی نے اسلام آباد پولیس لائنز میں بچوں کے تحفظ سے متعلق ایک تقریب میں خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ نئے پاکستان میں قانون سب کے لیے برابر ہے، موجودہ دورمیں ہرکوئی قانون ہاتھ میں نہیں لے سکتا، کارروائی سب کے خلاف ہوگی۔وزیر مملکت نے کہا کہ والدین اپنے بچوں پر نظر رکھیں ، جدید ٹیکنالوجی پر والدین کا چیک اینڈ بیلنس ضروری ہے، بچوں کو موبائل فون یا دیگر اشیا دینے سے پہلے جاننا ہوگا اس پر بچے کیا استعمال کر رہے ہیں، ان ڈیوائسز کے استعمال سے بچے تباہی کی طرف بڑھ رہے ہیںانہوں نے مزید بتایا کہ اسلام آباد کے بڑے نامی گرامی تعلیمی اداروں کا سروے کرایا گیا تو پتہ چلا کہ 75 فیصد طالبات اور 45 فیصد طلبا آئس کرسٹل کا نشہ کرتے ہیں۔ آئس کرسٹل ایک ٹافی کی طرح ہے، والدین کو بھی پتہ نہیں چلتا کہ کیا چیز ہے لیکن اب انہیں آنکھیں کھلی رکھنا ہوں گی۔ شہریار آفریدی نے کہا کہ ڈرگ مافیا ہماری نسلوں کو تباہ کررہا ہے، ایک خودکش بمبار چند سو افراد کو جب کہ مافیا منشیات کے ذریعے قوم کو ہدف بناتا ہے،شہریارآفریدی نے کہا کہ جبری مشقت لینے والوں سے بھی نمٹنا ہوگا، پولیس اورتمام اداروں کو نوجوانوں کو اپنے ساتھ ملانا ہوگا، وزیراعظم کےحکم پر پولیس نے سخت ترین کارروائی جاری رکھی ہوئی ہے۔ پاکستان کے مستقبل کے لیے اقدامات کررہے ہیں، بچے اور بچیاں مل کرپاکستان کا مثبت تشخص اجاگر کریں گے۔

نوائے وقت