اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر قبلہ ایاز — فائل فوٹو

اسلامی نظریاتی کونسل کا اجلاس چیئرمین ڈاکٹر قبلہ ایاز کی صدارت میں اسلام آباد میں ہوا جس میں وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نورالحق قادری اور وزیر پارلیمانی امور علی محمد خان خصوصی طورپر شرکت کی۔

اسلامی نظریاتی کونسل کے اہم اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر قبلہ ایاز کا کہنا تھا کہ قتل کے فتوے دینے والوں کے خلاف سزا بڑھانے کی کوشش کریں گے۔

چئیرمین اسلامی نظریاتی کونسل نے کہا کہ کسی کو واجب القتل قرار دینا، کفر کے فتوے لگانا یہ کسی فرد یا گروہ کا کام نہیں ہے ۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے مذہبی امور نورالحق قادری نے کہا کہ اسلامی نظریاتی کونسل سے بھر پور فائدہ اٹھاتے ہوئے اسے ماضی کی طرح غیر فعال ہونے سے بچائیں گے اور کونسل اراکین کرتار پور کے مقام پر سکھوں کے استقبال میں بھی شریک ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت اسلامی نظریاتی کونسل کی تجاویز سے بھرپور فائدہ اٹھائے گئی جبکہ وزیراعظم عمران خان کونسل کے چیئرمین اور ممبران سے ملاقات کریں گے۔

نورالحق قادری کا کہنا تھا کہ اجلاس میں وزارت مذہبی امور، پارلیمانی امور اور اسلامی نظریاتی کونسل کے تعاون پر بات ہوئی اور کونسل کے ممبران اور وزرا کی جانب سے بہت اچھی تجاویز پیش کی گئیں۔

وفاقی وزیر برائے مذہبی امور نے کہا کہ حکومت کی خواہش ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل سے بھرپور رہنمائی لی جائے اور اسلامی نظریاتی کونسل کی قابل عمل سفارشات پر فی الفور عمل کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کے مدینہ ریاست کے فلسفے پر اسلامی نظریاتی کونسل سفارشات پیش کرے گی اور مذہبی امور، قانون انصاف، داخلہ، تعلیم اور پارلیمانی امور کی وزارتیں مسلسل اسلامی نظریاتی کونسل سے رہنمائی لیتی رہیں گی۔

انہوں نے کہا کہ اسلامی نظریاتی کونسل کو ماضی میں نظرانداز کیا گیا ہمارے ملک میں محبت کی فضا کی کمی ہے تمام مکاتب فکر کے علما کی موجودگی میں اسلامی نظریاتی کونسل قومی یکجہتی میں اہم کردار ادا کرے گی۔

وفاقی وزیر برائے مذہبی امور کا کہنا تھا کہ اسلامی نظریاتی کونسل کے ممبران کو پارلیمنٹ بلائیں گے تاکہ وہ قانون سازی کو دیکھ سکیں، ہماری حکومت بلاسود بینکاری کے آغاز سے اسلامی معاشی نظام کا آغاز کرے گی اور اس حوالے سے علماء کرام کی تمام سفارشات پر حکومت غور کرے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل ڈاکٹر قبلہ ایاز وزرا کی اجلاس میں شرکت حکومت کی سنجیدگی کا مظہر ہے،جہاں اچھی گفتگو ہوئی، اسلامی نظریاتی کونسل اہم آئینی ادارہ ہے۔

اس موقع پر علی محمد خان کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت کونسل سے رہنمائی چاہے گی اور قابل عمل سفارشات پر فوری عمل کرنا چاہتے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کلمہ کی بنیاد پر بنا ہے اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کو اس کی اساس کے مطابق ڈھالنے کی کوشش ہوتی رہی ہے جبکہ ریاست مدینہ کا خواب ہمارا وژن ہے، بدقسمتی سے ملک اپنی بنیاد پر قائم نہ رہا۔

ایک سوال کے جواب میں پیر نورالحق قادری کا کہنا تھا کہ اللہ اور رسول کے خلاف سود کی شکل میں جنگ کب ختم کریں گے؟ پہلے ہم بلاسود بینکاری کو فروغ دیں گے، پھر سود کے خاتمے کی جانب بڑھیں گے۔

دوسری جانب ذرائع نے بتایا کہ اسلامی نظریاتی کونسل نے ایجنڈا اگلے اجلاس تک موخر کردیا، خیال رہے کہ اجلاس میں بیک وقت 3 طلاق دینے پر سزا کے تعین کا معاملہ زیر غور آنا تھا۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ ایجنڈا وزرا کی اجلاس میں شرکت کی وجہ سے مؤخر کیا گیا تھا۔
https://www.dawnnews.tv/news/1092203/