اگرچہ اہل مغرب حریت فکر، آزادی ٔ اظہار، جمہوری رویوں، مذہبی آزادیوں اور شخصی خودمختاری کے علمبردار ہیں، لیکن اس کے باوجود اس بات کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے کہ گزشتہ دو عشروں کے دوران اکثر مغربی معاشروں میں اسلامو فوبیاکی لہر پورے عروج پر رہی ہے۔ اسلام سے نفرت اور تعصب کا اظہار مندرجہ ذیل طریقوں سے کیا جاتا رہا ہے:

1۔ نبی کریم ﷺ کی ذات اقدس کی توہین کی ناپاک جسارت : نبی کریم ﷺ کی ذات اقدس کی توہین کے واقعات گزشتہ کئی برسوں کے دوران تواتر سے مغرب میں رونما ہوتے رہے ہیں۔ ایک عرصہ قبل سلمان رُشدی نے اسلام اور پیغمبر اسلام کے خلاف ایک کتاب کو تحریر کیا، جس پر پورے عالم اسلام میں غم وغصے کی لہر دوڑ گئی۔ بھرپور احتجاج کے باوجود سلمان رُشد ی کا احتساب نہ ہو سکا، اسی طرح مختلف مغربی جرائد میں نبی کریمﷺ کی ذات اقدس کے بارے میں توہین آمیز مواد کی اشاعت کی کوششیں کی جاتی رہی ہیں۔ کچھ عرصہ قبل ہالینڈ کے انتہا پسند سیاستدان گیرٹ ویلڈر ز نے اس حوالے سے تمام حدود کو عبور کر لیا اور اس نے کئی مرتبہ عالم اسلام اور اُمت مسلمہ کو ذہنی اور روحانی اذیت میں مبتلا کرنے کی کوشش کی۔ پاکستان میں بھی اس حوالے سے عوامی سطح پر بھرپور احتجاج کیا گیا۔ حکومت ِپاکستان نے بھی ہالینڈ کے سفیر کو طلب کرکے اپنا احتجاج بھی ریکارڈ کروایا۔ ان ساری کوششوں کے باوجود گیرٹ ویلڈر ز کا احتساب نہ ہو سکا۔ نبی کریمﷺ کی ذات اقدس کے حوالے سے مغرب میں کیے جانے والے ان اقدامات کے نتیجے میں مشرق ومغرب میں بسنے والے مسلمانوں کے جذبات بری طرح مجروح ہوئے اور مسلمانوں نے اپنے غم وغصے کا بھرپور انداز میں اظہار بھی کیا، لیکن اس کے باوجود وقفے وقفے سے اس طرح کے واقعات مغربی ممالک میں دیکھنے کو ملتے رہتے ہیں۔

2۔ قرآن سوزی کے واقعات: نبی کریمﷺ کی ذات اقدس کے ساتھ ساتھ قرآن سوزی پر مبنی واقعات بھی گاہے بگاہے مغربی معاشروں میں رونما ہوتے رہتے ہیں۔ پادری ٹیری جونز نے کچھ سال قبل امریکہ میں قرآن سوزی کرنے کی ناپاک کوشش کی، جس پر عالم اسلام میں غم وغصے کی ایک لہر دوڑ گئی۔ گو، پادری ٹیری جونز کے ان اقدامات کی مسلمانوں کے ساتھ ساتھ مغرب میں بسنے والے معتدل مزاج لوگوں نے بھی بھرپور انداز میں مذمت کی، لیکن پادری ٹیری جونز کے اس مجرمانہ، غیر اخلاقی اور انتہاء پسندانہ قدم پر کوئی قانونی ضابطہ حرکت میں نہیں آیا۔ اسی طرح چند روز قبل بھی ناروے میں بار دگر سرعامِ قرآن سوزی کی ناپاک کوشش کی گئی۔ عمر الیاس نامی مسلم نوجوان نے اس ناپاک قدم کے راستے میں حائل ہونے کی کوشش کی۔ جس پر پوری اُمت نے اس کو تحسین کی نگاہ سے دیکھا۔ اس واقعہ میں بھی گستاخی کا ارتکاب کرنے والے شخص کے خلاف تاحال کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔  

3۔ نفرت انگیر فلمیں : مغرب کے بعض انتہا پسند افراد مسلمانوں کے خلاف منظم پراپیگنڈہ مہم چلانے میں مصروف رہتے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل ”انوسینس آف مسلمز “کے نام سے ایک فلم بنائی گئی، جس میں مسلمانوں کو مذہبی حوالے سے نادان اور احمق ثابت کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس فلم کے خلاف بھی بھرپور انداز میں احتجاج کیا گیا، لیکن نفرت وتعصب کا شکار منفی ذہنیت رکھنے والے عناصر اپنے ایجنڈے پر پوری شدومد سے کاربند رہے۔  

4۔ حجاب پر پابندی: دنیا کے مختلف ممالک میں حجاب پر پابندی عائد کرنی بھی کوشش کی گئی۔ فرانس اس حوالے سے سرفہرست رہا، جس نے انسانی مساوات کا اہتمام کرنے اور ہر فرد کو اپنی مرضی کے مطابق، زندگی گزارنے کا حق دینے کی بجائے مسلمان عورتوں کے نقاب پر پابندی کو عائد کر دیا گیا۔ اس طرح کے قوانین کینڈا میں بھی لاگو کرنے کی کوشش کی گئی، لیکن مسلمانوں کے بروقت احتجاج کی وجہ اس پر عمل نہ ہو سکا۔ کچھ عرصہ قبل جرمنی کے الیکس نامی ایک انتہا پسند باشندے نے مصر سے تعلق رکھنے والی مسلمان عورت مروۃ الشربینی کو صرف حجاب سے نفرت کی بنیاد پر عدالت میں قاتلانہ حملہ کرکے جاں بحق کر دیا۔  

5۔ مساجد کے خلاف احتجاج: مغربی دنیا میں مختلف مقامات پر مساجد کے خلاف بھی پر تشدد اور معاندانہ جذبات کا اظہار کیاجاتا رہا ہے؛ چنانچہ یورپ کے بعض ممالک میں مساجد کے میناروں پر پابندی کو کرنے کی کوشش کی گئی۔ انگلستان میں کچھ عرصہ قبل مختلف مساجد کے شیشے توڑنے کی کوشش کی گئی۔ اسی طرح نیوزی لینڈ میں بھی کچھ ماہ قبل ایک مسلح جنونی نے مسجد میں داخل ہو کر سرعام فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں متعدد مسلمان موقع پر شہید ہو گئے۔ نیوزی لینڈ کی وزیراعظم نے اس موقع پر رواداری اور دانش مندی کا بھرپورانداز میں مظاہرہ کیا اور مسلمانوں کے غم میں شریک ہو کر واقعے کے منفی اثرات کو زائل کرنے کی کوشش کی۔  

6۔ یورپ میں مسلمان مبلغین کے داخلے پر پابندی : یورپ کے بعض ممالک میں کئی نامور مسلمان مبلغین کے داخلوں پر پابندی عائد کی گئی اور اس کی وجہ یہ بیان کی گئی کہ ان کے انتہا پسند نظریات کے نتیجے میں معاشرے میں خلفشار پھیلنے کا اندیشہ ہے۔  

7۔ سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد: سوشل میڈیا پر بھی گزشتہ چند برسوں کے دوران توہین آمیز مواد کو بڑے پیمانے پر پھیلایا گیا اور اسلام کے پیغام امن اور اخوت کو بری طرح مجروح کرکے اسلام کو انتہا پسندی، دہشت گردی کے دین کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی گئی اور تعدادِ ازواج، جہاد، غلام اور لونڈی جیسے تصورات پر شدید انداز میں تنقید کی گئی۔ اسلاموفوبیا کی اس لہر کا مقابلہ کرنے کیلئے دنیا بھر اور بالخصوص مغرب میں بسنے والے علمائے دین اور پڑھے لکھے مسلمان نوجوانوں پر کچھ اہم ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں، جو درج ذیل ہیں :

1۔ قرآن مجید کی عظمت اور تعلیمات سے لوگوں کو آگاہ کرنا: مغرب اور مشرق میں بسنے والے مسلمانوں کو اپنے اپنے دائرہ کار میں رہ کر قرآن کی آفاقی تعلیمات سے لوگوں کو آگاہ کرنے کی ضرورت ہے اور غیر مسلموں کو یہ بتلانے کی ضرورت ہے کہ قرآن کسی مخصوص قوم یا علاقے کی فلاح اور نجات کی دعوت لے کر نہیں آیا، بلکہ پوری انسانیت کی بقاء اور ترقی کا پیغام لے کر آیا ہے۔  

2۔ نبی کریمﷺ کی سیرت اور تعلیمات کاپرچار: مغرب میں بسنے والے علماء اور نوجوانوں پر یہ ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے وسائل اور صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے، نبی کریمﷺ کی تعلیمات اور سیرت سے اہل مغرب کو آگاہ کریں اور بحیثیت ِمحسن انسانیت، انہوں نے انسانوں پر جو احسانات کیے ہیں، ان کو مغربی معاشروں میں بسنے والے انسانوں تک پہنچانے کی ضرورت ہے۔ نبی کریمﷺ کی تعلیمات کے نتیجے میں محرم رشتہ داروں کا جو تصور منظر عام پر آیا اور گھریلو تناؤ کی شکل میں طلاق کے جواز کی جو صورت رکھی گئی، اس سے دنیا بھر کے تمام انسانوں نے استفادہ کیا۔ ان انسان دوست اقدامات کو بھی مغربی معاشروں کے سامنے رکھنے کی ضرورت ہے۔  

3۔ جہاد کی حقیقت اور مقاصد کے بارے میں ابلاغ: دنیا بھر کے علماء اور نوجوانوں بالخصوص مغربی معاشروں میں رہنے والے علماء اور نوجوانوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اسلام کے تصورِ جہاد سے اہل ِمغرب کو آگاہ کریں اور ان کو بتلائیں کہ جہا دکا ایک بڑا مقصد ظلم کا خاتمہ اور مظلوموں کی حمایت کرنا ہے اور جہاد کے ذریعے دنیا بھر کے ان لوگوں کو حقوق دلوائے جا سکتے ہیں، جن کو مذہبی بنیادوں پر ظلم اور بربریت کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔  

4۔ عورت کی عظمت اور حجاب کے مقاصد کا بیان: دنیا بھر کے مسلمانوں بالخصوص مغربی معاشرے میں بسنے والے مسلمانوں اور علماء کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اسلام میں عورت کے مقام اور حجاب کی ضرورت اور اہمیت سے مغربی معاشروں کو آگاہ کریں۔ اگر اہل مغرب کو یہ بات سمجھ میں آ جائے کہ حجاب کا مقصد عورت کی حیثیت کو کم کرنا نہیں، بلکہ اس کی عزت وآبرو کو تحفظ دینا ہے تو یقینا مغربی معاشروں میں انصاف پسند لوگ حجاب کو نفرت کی بجائے قدر کی نگاہ سے دیکھنا شروع ہو جائیں گے۔  

5۔ توہین مذہب سے متعلقہ قوانین کے نفاذ کی کوششیں :مغربی معاشروں میں بسنے والے علماء اور مسلمان نوجوانوں کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے معاشروں میں توہین مذہب سے متعلقہ قوانین کے نفاذ کا مطالبہ بھی شدومد سے کریں، تاکہ اگر کسی مقام پر توہین مذہب کی بات ہو تو قانونی طریقے سے اس کا مقابلہ کیا جا سکے اور شرپسند لوگوں کو ان قوانین کے ذریعے قرار واقعی سزا دلوائی جا سکے۔ اگر مغربی معاشروں میں توہین مذہب کے قوانین لاگو ہو جائیں تو بہت سے سرکش اور بھٹکے ہوئے عناصر کا قلع قمع اور احتساب ہو سکتا ہے۔  

مذکورہ بالا نکات پر عمل کرنے کے نتیجے میں اسلاموفوبیا کا بھر پور طریقے سے مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔

اللہ تبارک وتعالیٰ مسلمان علماء اور باشعور نوجوانوں کو اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرنے توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)