سابق وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار کو لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے سینٹ الیکشن لڑنے کی اجازت دینے کا فیصلہ سپریم کورٹ آف پاکستان میں چیلنج کر دیا گیا ہے۔

یہ درخواست پیپلز پارٹی کے نوازش پیرزادہ کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر کی گئی ہے۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ اسحاق ڈار کو احتساب عدالت مفرور قرار دے چکی ہے اور ایسا شخص جو عدالتی مفرور ہو اس کے کوئی بنیادی حقوق نہیں ہوتے ، اسے الیکشن لڑنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے اسحاق ڈار کے کاغذات نامزدگی منظور کرنے کے حوالے سے فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے اورر اسحاق ڈار کے کاغذات نامزدگی مسترد کیے جائیں۔
واضح رہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے اسحاق ڈار کی اپیل منظور کرتے ہوئے سینیٹ الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت دی۔ اسحاق ڈار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اسحاق ڈار نے ٹیکنو کریٹ اور جنرل نشست کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرائے ، دو سیٹوں کیلئے الگ الگ بینک اکاونٹس نہ ہونے کو بنیاد بنایا گیا جبکہ غیر تصدیق شدہ شناختی کارڈر کو بھی بنیاد بنا کر کاغذات نامزدگی مسترد کر دئیے گئے، وکیل نے دلائل دیے کہ ریٹرننگ افسر نے امیدوار کے وکیل کو سنے بغیر کاغذات نامزدگی مسترد کیے