ارتداد پھیل رہا ہے
یاسر ندیم الواجدی

اٹھارہ سالہ سعودی لڑکی رهف القنون کی کہانی گزشتہ چند دنوں سے ٹویٹر پر فالو کررہا ہوں۔ اس کے مرتد ہونے، پھر بینکاک میں ہوٹل کے کمرے میں بند ہوکر ٹویٹر کے ذریعے دنیا کی توجہ حاصل کرنے، بڑے بڑے مرتدین اور اسلام دشمنوں کا اس کو تعاون ملنے، اقوام متحدہ کا اس کو رفیوجی اسٹیٹس دینے، پھر کینیڈا کے وزیراعظم کا خود اس کو دعوت دینے اور آخرکار اس کے کینیڈا پہنچنے تک کا مکمل سفر اس کے ٹویٹر ہینڈل پر موجود ہے۔ اس کی حمایت میں ایک بڑی تعداد ان عرب خواتین کی بھی ہے جو کبھی مسلمان رہ چکی ہیں اور اب مغربی ممالک میں زندگی گزار رہی ہیں۔ اس نے ٹویٹر پر اپنا نیم برہنہ فوٹو نیز جہاز میں شراب پیتے ہوے بھی اپنا فوٹو پوسٹ کیا ہے۔

ارتداد کا یہ طوفان عالمگیر ہے۔ جہاں ایک طرف عالم کفر کے ذریعے دن رات مسلم نوجوانوں کو مرتد بنانے کی کوششیں ہورہی ہیں، وہیں ہمارے معاشرے کی کچھ کمیاں بھی ان کوششوں کو کامیاب کرنے میں معاون ہوتی ہیں۔ ہم دونوں ہی محاذوں پر ابھی تیار نہیں ہیں۔ رھف القنون کا معاملہ تو خیر عالمی میڈیا میں آگیا لیکن ایسے بہت سے افراد ہیں جو داخلی یا خارجی وجوہات سے ارتداد کا شکار ہورہے ہیں۔ اس کے لیے فوری طور پر لائحہ عمل بنانے کی اور ایسے افراد تیار کرنے کی ضرورت ہے جو اسلام کی عقلی اور مقبول تشریح انھی کی زبان میں کرسکیں جس زبان کو یہ طبقہ سمجھتا ہے۔ اس وقت شاہ ولی اللہ اور امام غزالی کے مناہج کا احیاء وقت کی ضرورت ہے۔ کاش کوئی ادارہ اس تعلق سے فکر مند ہو اور علما کو اس تعلق سے تیار کرسکے۔