اخوان نے مذہب کو ‘فساد فی الارض’ کے لیے استعمال کیا

مصرکے دارالافتاء کی طرف سے جاری ہونے والے ایک فتوے میں اخوان المسلمون اور اس کی فکرپر چلنے والوں کو ‘دور حاضر کے خوارج’ قراردیتے ہوئے ان پر فساد فی الارض کا الزام عاید کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مصری دارالافتاء کی طرف سے جاری کردہ فتوے میں کہا گیا ہے کہ اخوان ایک دہشت گرد جماعت اور عصر حاضر کی خوارج پر مشتمل ہے۔ اس جماعت کے لوگوں نے دین کی آڑ میں تباہی اور بربادی کے کلچر کو پروان چڑھایا۔
فتوے میں مزید کہا گیا ہے کہ اخوان نے اپنی پوری تاریخ میں کوئی تہذیبی کامیابی یا دین، وطن اور ملت کی کوئی خدمت نہیں کی۔ اخوان کے خشک نعرے اور خطبے صرف فتنہ و فساد، بے چینی، خون خرابے، لوٹ مار اور لوگوں کو آپس میں دست وگریباں کرنے کے لیے تھے۔

فتوے میں مزید کہا گیا ہے کہ حاکم وقت کی تکفیر، ریاست کی تکفیر، مخصوص لوگوں کو گمراہ قرار دینا، بے گناہ مسلمانوں کا خون بہانے کا حلال قرار دینا، امربالمعروف اور نہی عن المنکر کی آڑ میں مسلمانوں کی جان ومال اور عزت وآبرو پرحملے کرنا،اسلام کے نام پرجنگ کرکے اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانا صرف شیطان مردود اورخوارج کا کام ہے اور یہ سب کچھ اخوان المسلمون کرتی رہی ہے۔

دارالافتاء کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کو پناہ دینا، انہیں چھپاپا اورانہیں عدالتوں سے فرار کرانا دہشت گردی کے جرائم میں حصہ لینے کےمترادف ہے اور ایسے لوگ اللہ کی لعنت کے مستحق ہیں۔

خیال رہے کہ سنہ 2013ء کو مصری فوج نے عوامی احتجاج کے بعد اخوان المسلمون کے منتخب صدر محمد مرسی کا تختہ الٹ کر اقتدار پرقبضہ کرلیا تھا۔ اس کے بعد سے مصر میں اخون المسلمون زیرعتاب ہے۔

العربیہ