’احسن اقبال پر حملہ کرنے والے کا تعلق تحریکِ لبیک سے ہے‘

15
صوبائی ترجمان ملک احمد خان کا کہنا ہے کہ حملہ آور کا نام عابد ہے اور وہ قریبی گاؤں کا رہائشی ہے

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے حکام کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال پر نارووال میں ہونے والے قاتلانہ حملے کی ابتدائی تفتیش کے مطابق حملہ آور نے اپنا تعلق مذہبی تنظیم تحریک لبیک سے بتایا ہے تاہم اس تنظیم حملہ آور سے اعلانِ لاتعلقی کیا ہے۔

احسن اقبال پر اتوار کی شام کنجروڑ کے علاقے میں اس وقت فائرنگ کی گئی تھی جب وہ اپنے انتخابی حلقے میں مسیحی برادری کی ایک کارنر میٹنگ سے خطاب کر رہے تھے۔

انھیں ایک گولی دائیں بازو پر لگی تھی جو کہنی کی ہڈی توڑتی ہوئی ان کے پیٹ میں داخل ہو گئی تھی۔

Ahsan Iqbal calls Imran Khan a “Fasadi Baba”

احسن اقبال کو نارووال میں ابتدائی طبی امداد کے بعد لاہور منتقل کر دیا گیا تھا جہاں اتوار کی شب سروسز ہسپتال میں ان کا آپریشن ہوا۔ آپریشن کے بعد اب انھیں انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

احسن اقبال کے بیٹے احمد اقبال کا کہنا ہے کہ ان کے والد کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

احسن اقبال
وزیرِ داخلہ پر فائرنگ کرنے والے عابد حسین نامی شخص کو موقع سے ہی گرفتار کر لیا گیا تھا اور اس کے خلاف مقدمہ نارووال کے تھانہ شاہ غریب میں درج کر لیا گیا ہے اور اس میں اقدام قتل اور انسداد دہشت گردی کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔

نامہ نگار عمر دراز ننگیانہ کے مطابق اس واقعے کے بارے میں ڈپٹی کمشنر نارووال کی جانب سے چیف سیکریٹری پنجاب کو بھیجی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ابتدائی تفتیش سے معلوم ہوا ہے کہ حملہ آور کا تعلق نارووال کی تحصیل شکر گڑھ سے ہے اور اس نے حملے کے وقت وزیر داخلہ پر 30 بور کی پستول سے فائر کیا۔

خط کا عکس
Image captionڈپٹی کمشنر کی جانب سے چیف سیکریٹری کو بھیجی گئی رپورٹ کا عکس

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ حملہ آور نے اپنا تعلق مذہبی جماعت تحریک لبیک سے ظاہر کیا ہے۔ تاہم تحریک لبیک کے ترجمان پیر اعجاز اشرفی نے رابطہ کرنے پر بی بی سی اردو کو بتایا ہے کہ وہ اس مبینہ حملہ آور کا نام پہلی مرتبہ سن رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہماری جماعت کی پالیسی عدم تشدد پر مبنی ہے ہم اپنے کارکنان کو ہتھیار اٹھانے کی اجازت نہیں دیتے اور ختم نبوت کے لیے اپنی کوشش پرامن کوششیں جاری رکھیں گے۔‘

خیال رہے کہ احسن اقبال پر حملے کے فوراً بعد ہی پاکستانی سوشل میڈیا پر حملہ آور کی تحریکِ لبیک سے وابستگی کے بارے میں بحث چھڑ گئی تھی اور ٹوئٹر پر #TLPPeacefulOrg کا ٹرینڈ چلنے لگا تھا۔