پاکستان کے وفاقی وزیرِ برائے داخلہ اعجاز شاہ

پاکستان تحریک طالبان پاکستان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان سے متعلق مبینہ آڈیو میں ’فرار‘ کے دعوے پر جہاں پاکستان فوج کی جانب سے ابھی تک کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے وہیں حکومتی وزرا بھی اس بارے میں بات کرنے سے کترا رہے ہیں۔

بی بی سی نے جب اس بارے میں وزیر داخلہ بریگیڈئیر (ر) اعجاز شاہ اور وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک سے بات کی تو دونوں کا یہی کہنا تھا کہ اس بارے میں ان کے علم میں کچھ نہیں ہے۔

مبینہ آڈیو میں احسان اللہ احسان کے پاکستان کی حراست سے ’فرار‘ ہونے کی دعوے کے بارے میں بی بی سی نے جب حکومت کے اہم عہدیداروں سے فون پر رابطہ کیا تو پاکستان کے وزیر داخلہ بریگیڈئیر (ر) اعجاز شاہ نے اس سوال کے جواب میں کہا کہ انھیں اس بارے میں کوئی علم نہیں ہے۔

جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ کیا بطور وزیر داخلہ انھوں نے متعلقہ اداروں سے اس بارے میں جاننے کی کوشش کی تو رابطہ منقطع ہو گیا۔

وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک
Image captionوفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک نے بھی اس معاملے میں لاعلمی کا اظہار کیا

وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک سے جب یہ سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’جیسے آپ نے سنا ہے، میں نے بھی سنا ہے۔‘

جب ان سے احسان اللہ احسان کے پاکستان کی تحویل میں ہونے سے متعلق سوال پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’میرے علم میں نہیں کہ ادھر ہے کہ نہیں ہے‘۔

بی بی سی نے جب اس مبینہ آڈیو پیغام میں کیے گئے دعویٰ پر رد عمل کے لیے پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ سے رابطہ کیا تو فوجی ذرائع نے اس دعویٰ کی تصدیق یا تردید نہیں کی اور کہا کہ وہ ابھی اس بارے میں کچھ نہیں کہنا چاہتے۔

پاکستان کے میڈیا اور ٹی وی چینلز سے بھی یہ خبر بالکل غائب ہے۔

مقامی چینل سماء کی اینکر پرسن عنمبر شمسی نے جب جمعے کو اپنے پروگرام میں وزیر قانون ڈاکٹر فروغ نسیم سے احسان اللہ احسان نے متعلق کیسز کے بارے میں دریافت کرنے چاہا تو ان کا کہنا تھا کہ یہ وزارت داخلہ کے دائرہ اختیار میں آتا ہے اس لیے ’اعجاز شاہ سے پوچھیں۔ وہ آپ کو تفصیل سے بتائی ںگے کہ اس میں فیکٹ کیا ہے، فِکشن کیا ہے اور آگے وہ کیا کرنے جا رہے ہیں‘۔

ان کا کہنا تپا کہ یہ مناسب نہیں کہ وہ کسی اور کے دائرہ اختیار پر بولنا شروع کر دیں۔

ادھر سوشل میڈیا پر صارفین اس سے متعلق مختلف سوالات اٹھا رہے ہیں اور اس معاملے پر اپنے خیالات کا اظہار کر رہے ہیں۔

احسان اللہ احسان

لیکن پاکستان کے چند نامور صحافی اور سوشل میڈیا پر متحرک صارفین اس مبینہ آڈیو می کیے گئے دعوے پر سوشل میڈیا پر اپنے خیالات کا اظہار کر رہے ہیں۔

سینئر صحافی عباس ناصر نے ٹوئٹر پر صحافی اور اینکرپرسن کامران خان کی ٹویٹ کو جس میں فوج کی انٹیلیجنس ایجنسی آئی ایس آئی کے سربراہ وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کر رہے ہیں، ری ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’ایسا لگ رہا ہے کہ احسان اللہ احسان کے ‘فرار’ ہونے کے بارے میں فیض کو دھچکا لگا ہے۔ ہاں، ہاں میں یہ خود سے کہہ رہا ہوں، اپنے خوابوں میں

اسی طرح صحافی اور اینکرپرسن ضرار کھوڑو نے اس بارے میں متعدد ٹویٹس کیں جن میں جہاں انھوں نے احسان اللہ احسان کے ’فرار‘ ہونے سے متعلق سوال اٹھائے وہیں انھوں نے لکھا کہ ’یاد رکھیں: یہ احسان اللہ احسان نہیں جو دشمن ہے۔ جن کی نگرانی میں وہ ’فرار ہو گیا‘ وہ ذمہ دار نہیں۔ آپ میں سے اصل دشمن وہ لوگ ہیں جو اس پر سوال کرتے ہیں اور جواب طلب کرتے ہیں۔ وہی اصل غدار ہیں۔‘

ٹوئٹر

صحافی اور اینکر پرسن عنبر شمسی نے اس معاملے میں ٹویٹ کیا کہ ایک عام ملک میں دہشت گردی کے بدترین واقعے کے چہرے کے ممکنہ ’فرار‘ یا ’رہائی‘ کی خبروں پر غم و غصہ پایا جاتا ہے، ’میڈیا پر جوابات کے سخت مطالبات سامنے آتے ہیں۔ خاموشی کا مطلب بھی جرم ہوتا ہے۔ یہاں، ٹوئٹر پر تھوڑا بہت غصہ اور بڑے پیمانے پر طنز اور میمز کا ایک سلسلہ جاری ہے

صحافی اور اینکر پرسن مبشر زیدی نے اس پر اپنا طنزیہ ردعمل کچھ یوں دیا۔

جبکہ خیبر پختونخواہ سے تعلق رکھنے والی سابق رکن اسمبلی اور قومی وطن پارٹی کی رہنما بشریٰ گوہر نے اس بارے میں لکھا کہ ’بڑے پیمانے پر قتل و غارت کرنے والا احسان اللہ احسان، کبھی بھی جیل میں نہیں تھا، نہ ہی اس پر کوئی الزام لگایا گیا تھا نہ ہی اسے کسی عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔۔۔ وہ ریاستی مہمان تھا۔ معاہدے کے بغیر ملک نہیں چھوڑ سکتا تھا۔ متاثرہ خاندانوں کی توہین کے لیے اس کا میڈیا پر انٹرویو کیا گیا۔ دہشت گردی کے الزامات، جیلیں امن کے حامی پختونوں کے لیے ہیں۔‘

ٹوئٹر

جبکہ ایک صارف نے اس پر ایک میم کے ذریعے کچھ اس طرح تبصرہ کیا۔

بی بی سی اردو