حکومت نے کہا ہےکہ پاکستان لوٹنےوالا ٹولہ اکٹھا ہوگیا، اپوزیشن NROکیلئے دبائو بڑھا رہی ہے، احتساب نہیں روکا جاسکتا،وزیر اعظم عمران خان نےقومی اسمبلی سے حزب اختلاف کے واک آئوٹ پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ واک آئوٹ این آر او حصول کیلئے دبائو ڈالنے کا حربہ ہے، یہ حربے نیب کے کرپشن کیسز سے بچنے کیلئے اختیار کئے جا رہے ہیں، ادھر وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی امور نعیم الحق نےکہا ہےکہ شریف اور زرداری خاندان کا زوال شروع اورسابق حکمرانوں کا قانون ختم، اب ملک میں قانون کی حکمرانی ہو گی، چور اور لیٹرے متحد ہو گئے، ان سے ایک ساتھ ہی نمٹیں گے،دوسری جانب وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہےکہ زرداری کی بادشاہت ختم ہوچکی ہے،انہیں گرفتار کرکے جے آئی ٹی کی تفتیش آگے بڑھانی چاہئے، 18 ویں ترمیم کا یہ مطلب نہیں کچھ نہیں پوچھیں،ان کے کتے جہازوں میں گھوم رہے ہیں ، پیسوں کا پوچھتے ہیں تو جمہوریت

خطرے میں پڑجاتی ہے،جو جو کرپشن میں ملوث ہے اس کا احتساب ہونا چاہئے۔تفصیلات کےمطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہےکہ پارلیمنٹ پر ٹیکس گزاروں کے سالانہ اربوں روپے خرچ ہوتے ہیں، قومی اسمبلی سے اپوزیشن کے ایک اور واک آئوٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ صرف یہی ایک کام کرنا چاہتے ہیں ۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں وزیر اعظم نے کہا کہ یہ دبائو کے وہ حربے ہیں جو این آ ر او لینے اور نیب کے کرپشن کیسز سے بچنے کیلئے اختیار کئے جا رہے ہیں حالانکہ نیب کیسز پی ٹی آئی حکومت نے شروع نہیں کئے ۔انہوں نے کسی کا نام لئے بغیر سوال کیا کہ کیا جمہو ریت منتخب سیا سی ر ہنمائوں کو کرپشن اور لوٹ مار کی کھلی چھوٹ کانام ہے ؟یوں محسوس ہوتا ہے کہ انکے نزدیک جو شخص عوام کے ووٹ لے کر منتخب ہو جائے اسے قومی خزانے پرڈاکہ زنی کا لا ئسنس مل جا تا ہے۔ ادھر وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی امور نعیم الحق نے اپوزیشن کے اجلاس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو لوٹنے والا ٹولہ اکٹھا ہو گیا ہے، اگر ان کا سمجھوتہ ہو گیا تو بڑی خوش آئند بات ہے،ہم چوروں اور ڈاکوؤں کے اس گروہ سے ایک ساتھ ہی نمٹیں گے،ان کے اکٹھے ہونے سے ہمارے لیے مزید آسانیاں ہو جائیں گی، شریف اور زرداری خاندان کا زوال شروع ہو چکا، انہوں نے قوم کی دولت کو بے دردی کیساتھ لوٹا، قوم کی لوٹی دولت کا ان کو جواب دینا پڑے گا،سابق حکمرانوں کا قانون ختم، اب ملک میں قانون کی حکمرانی ہوگی،چور اور لیٹرے متحد ہو گئے ہیں، ان کے اکٹھے ہو جانے سے ہمیں آسانی ہوگی، ہم قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں، نیب آزاد ادارہ، حکومت کو جوابدہ نہیں ہے۔دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا ہےکہ پنجاب میں 30 سال بعد نواز شریف کا تختہ الٹا ہے اور ایسا تختہ الٹا ہے کہ ن لیگ کا کوئی آدمی مل نہیں رہا،زرداری کی بادشاہت ختم ہوچکی ہے،انہیں گرفتار کرکے جے آئی ٹی کی تفتیش آگے بڑھانی چاہئے، 18 ویں ترمیم کا یہ مطلب نہیں کچھ نہیں پوچھیں،ان کے کتے جہازوں میں گھوم رہے ہیں ، پیسوں کا پوچھتے ہیں تو جمہوریت خطرے میں پڑجاتی ہے،جو جو کرپشن میں ملوث ہے اس کا احتساب ہونا چاہئے اوربیوروکریسی کو احتساب کے لیے تعاون کرنا پڑے گا۔

جنگ