‏بی بی سی کےعلی سلمان سب سے پہلے اوکاڑہ میں اجمل قصاب کے گھر پہنچے اور اجمل قصاب کا گھر سب سے پہلے بی بی سی نے دکھایا یہ رپورٹ ان سب کے لئے بہت دکھ کا باعث ہوگی جو کئی سال سے ایک ایسے صحافی پر اجمل قصاب کا گھر دکھانے کاالزام لگاتے رہے جو وہاں کبھی نہیں گیا

اجمل قصاب کے بارے میں ممبئی پولیس کے سابق کمشنر راکیش ماریا کی کتاب میں انکشافات پر انڈیا میں ہلچل


اجمل قصاب
Image captionراکیش نے اجمل قصاب کو محفوظ رکھنے کے حوالے سے کچھ معلومات ظاہر کی ہیں جو پہلے کہیں بتائی نہیں گئی تھیں

تم کیسے ہو لڑکے، تم ہو کہاں کے؟

جب ممبئی پولیس کے جوائنٹ چیف راکیش ماریا نے پنجابی لہجے میں یہ سوال پوچھا تو ان کا مخاطب شخص ایک لمحے کے لیے دنگ رہ گیا۔

اس کی آنکھوں میں شناسائی کی چمک ابھری اور اس نے جواب دیا ’اوکاڑہ‘۔ اوکاڑہ پاکستان کے صوبہ پنجاب کا ایک ضلع ہے اور راکیش نے اپنے سسر سے اس کے بارے میں سن رکھا تھا۔

اوکاڑہ کے بارے میں کچھ اور معلومات اکھٹی کرنے کے بعد راکیش پوچھ گچھ کے لیے واپس آئے۔

کچھ مزید دباؤ کے بعد انھیں اگلا جواب ملا کہ ’اگر میری شناخت ہو گئی تو انڈیا اور امریکہ میرے گاؤں کو بموں سے اڑا دیں گے۔‘

راکیش سوچتے ہیں کہ اگر اس رات سب کچھ سامنے بیٹھے شخص کے مطابق ہوتا تو وہ شخص ایک ‘ہندو دہشت گرد’ کی حیثیت سے مر جاتا۔

اس کا نام سمیر دنیش چوہدری بتایا گیا تھا۔ اس کا شناختی کارڈ ارونودایہ ڈگری کالج حیدر آباد کا اور گھر کا پتا 254، ٹیچرز کالونی،نگر بھاوی، بنگلور تھا تاہم یہ سب جعلی تھا۔

کیونکہ اس رات راکیش ماریا کے سامنے جو شخص موجود تھا وہ اجمل قصاب تھا جو ان دس حملہ آوروں میں سے ایک تھے جنھوں نے 26 نومبر 2008 کو ممبئی میں حملے کیے۔

راکیش ماریا کا نام اجمل قصاب اور ممبئی حملوں کے حوالے سے شہ سرخیوں میں رہا تھا۔

راکیش

ہوم گارڈز کے ڈائریکٹر جنرل اور ممبئی کے پولیس کمشنر کے عہدے سے ریٹائر ہونے والے راکیش ماریا نے اس حوالے سے اپنے حصے کی کہانی اپنی کتاب میں سنائی ہے جس کا نام ‘لیٹ می سے اٹ ناؤ’ یعنی ’اب مجھے کہنے دو‘ ہے۔

‘ورنہ سب کچھ جعلی ہو گا‘

راکیش اپنی کتاب میں لکھتے ہیں ’اگر اجمل قصاب اپنے جعلی شناختی ڈی کارڈ کے ہمراہ مر جاتا تو اخبارات چیخ رہے ہوتے کہ ایک ہندو دہشت گرد کیسے ممبئی حملے کر سکتا ہے۔ ٹی وی چینلز کے صحافی بنگلور میں ان کے خاندان اور ہمسایوں سے انٹرویو لینے کے لیے اکھٹے ہوتے لیکن ایسا نہیں ہوا۔ فرید کوٹ، پاکستان کا اجمل قصاب میرے سامنے بیٹھا تھا اور میں اس سے پوچھ رہا تھا ’کی کرن آیا ایں‘ یعنی تم کیا کرنے آئے ہو۔

راکیش لکھتے ہیں کہ ’قصاب نے آہستہ آہستہ حملے کے لیے بھرتی ہونے سے لے کر ممبئی داخل ہونے تک تمام باتوں سے پردہ ہٹایا۔‘

وہ بتاتے ہیں کہ قصاب اور ان کے ساتھی ’الحسینی‘ نامی کشتی پر ممبئی کے پانیوں میں داخل ہوئے تھے۔

’یہ نام 1993 میں ممبئی بم حملے کے مقدمے میں بھی سنا گیا تھا۔ مرکزی ملزم ٹائیگر میمن کے فلیٹ کے بلاک کا نام بھی الحسینی ہی تھا۔‘ پولیس کے مطابق سازش اسی عمارت میں بنائی گئی تھی۔

’غدار کون ہے؟‘

راکیش نے قصاب کو محفوظ رکھنے کے حوالے سے کچھ معلومات ظاہر کی ہیں جو پہلے کہیں بتائی نہیں گئی تھیں۔

وہ لکھتے ہیں کہ: ’کرائم برانچ کا جوائنٹ کمشنر ہوتے ہوئے میری اولین ترجیح تھی کہ قصاب کو زندہ رکھنا ہے۔ لوگوں اور افسران کا ان کی طرف رویہ دیکھ کر میں نے خود ان کے چوکیداروں کا انتخاب کیا تھا۔‘

انھوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ’آئی ایس آئی اور لشکر کے لوگ انھیں ویسے بھی قتل کرنا چاہتے تھے تاکہ حملے کا واحد ثبوت مٹایا جا سکے۔ ہمیں انڈیا کی حکومت کی طرف سے بتایا گیا کہ قصاب کی سکیورٹی کے حوالے سے تمام ذمہ داری ممبئی پولیس کی کرائم برانچ کی ہے۔‘

’مرکزی انٹیلیجنس اداروں کو موصول ہونے والی معلومات میں ظاہر ہوا کہ پاکستان نے قصاب کو قتل کرنے کی ذمہ داری داؤد ابراہیم کے گینگ کو دی تھی۔ اگر انھیں کچھ ہوتا تو نہ صرف میری نوکری چلی جاتی بلکہ ممبئی پولیس کی ساکھ بھی داؤ پر تھی۔‘

اجمل قصاب

قصاب کی دو تصاویر انٹرنیٹ پر کافی زیادہ استعمال کی گئیں۔

قصاب کی ایک تصویر، جس میں انھوں نے اے کے 57 ہاتھ میں پکڑی ہوئی ہے، چھترپتی شیواجی ٹرمینس کی ہے جبکہ دوسری ممبئی کے پولیس سٹیشن کی۔

دوسری تصویر کے بارے میں ماریا لکھتے ہیں کہ ’ہم نے ان کی تصویر بناتے وقت کافی دھیان رکھا تھا کہ کوئی تصویر میڈیا میں نہ جائے۔ جب کرسی پر بیٹھے قصاب کی تصویر میڈیا پر چلی تو ہم حیران رہ گئے۔‘

’میں نے تمام افسران کو بلا کر پوچھا کہ کون ہے، تو سب نے انکار کر دیا۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ان کے چہروں سے ایسا لگ رہا تھا کہ وہ سچ بول رہے ہیں۔ پھر انھیں بتایا گیا کہ مرکزی ایجنسیوں نے اپنے ایک افسر کو ممبئی بھیجا ہے کہ قصاب سے تفتیش کریں۔

ماریا کے مطابق اس سے مراد سرحد کے اُس پار پیغام بھیجنا تھا کہ قصاب انڈیا کی حراست میں ہے۔ یہ ضروری تھا کیونکہ پاکستان حملے سے لاتعلقی کا اظہار کر رہا تھا۔

پاکستان نے ابتدائی طور پر قصاب کو اپنا شہری تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا تاہم حملے کے کچھ ماہ بعد پاکستان کی حکومت نے قصاب کو اپنا شہری تسلیم کر لیا تھا۔ پھر ایک مقامی نیوز چینل نے دعویٰ کیا کہ قصاب مرکزی پنجاب کے گاؤں فرید کوٹ کے رہائشی ہیں۔

ممبئی دھماکے
Image captionاجمل قصاب کو ممبئی حملوں کے چار برس بعد پونے کی یڑودا جیل میں پھانسی دے دی گئی تھی

ممبئی حملے میں 166 افراد مارے گئے تھے سو ایک خصوصی عدالت نے اجمل قصاب کو 166 مقدمات میں مجرم قرار دیا۔ ان پر 86 فردِ جرم عائد ہوئیں اور چھ مئی 2010 کو انھیں سزائے موت سنائی گئی تھی۔

پانچ نومبر 2012 کو صدر نے اجمل قصاب کی رحم کی اپیل مسترد کر دی تھی اور پھر 21 نومبر 2012 کو صبح سات بجے اجمل قصاب کو پونے میں پھانسی دے دی گئی تھی۔

’قصاب کو انڈیا کی سمجھ بوجھ نہیں تھی!‘

ماریا لکھتے ہیں ’قصاب کو بچپن سے بتایا گیا تھا کہ انڈیا پاکستان کا دشمن ہے۔ انھیں انڈیا یا دنیا کے بارے میں کوئی خاص علم نہیں تھا۔

’ان کا ماننا تھا کہ انڈیا، امریکہ اور اسرائیل، پاکستان اور اسلام کے دشمن ہیں اور یہ کہ انڈیا میں موجود مسلمانوں کو نماز ادا کرنے کی اجازت نہیں اور حکام نے مساجد میں تالا لگا دیا ہے۔

’جب کرائم برانچ کے لاک اپ میں اذان کی آواز سنائی دیتی تو انھیں وہ ایک خواب لگتا تھا۔ اس کا علم ہونے پر میں نے ایک گاڑی میں قصاب کو میٹرو سنیما کے قریب والی مسجد لے جانے کو کہا اور اپنی آنکھوں سے لوگوں کو نماز پڑھتے دیکھ کر وہ ہکا بکا رہ گیا۔‘

سنہ 2008 میں بی بی سی کے نامہ نگار علی سلمان اجمل قصاب کے گاؤں پہنچے جب ان پر مقدمہ چل رہا تھا۔ بی بی سی نے پہلی بار ان کا گھر دکھایا اور اجمل قصاب کی پھانسی کے بعد بی بی سی کی نمائندہ شمائلہ جعفری اجمل قصاب کے گاؤں پہنچیں جہاں لوگوں نے ان سے صحیح انداز میں بات نہیں کی۔

فرید کوٹ
Image captionفریڈ کوٹ کے رہائشیوں نے اجمل قصاب کو اپنا گاؤں والا ماننے سے انکار کر دیا تھا

قصاب کے گھر کا پوچھنے پر کچھ بچوں نے شمائلہ کو ایک گھر میں بھیج دیا۔ گھر میں خاموشی تھی۔ تاہم جب کیمرہ مین نے گھر کی تصویر لینے کی کوشش کی تو کچھ لوگ وہاں پہنچ گئے اور بی بی سی کی ٹیم کو واپس جانے کا کہا جبکہ گلی میں موجود کچھ لوگوں نے اجمل قصاب سے متعلق معلومات دینے سے انکار کیا۔

مقامی لوگوں کے مطابق قصاب نامی کوئی شخص نہیں تھا۔ ان کے مطابق یہ ’پاکستان کو بدنام کرنے کی بین الاقوامی سازش ہے۔‘

سیاسی بیان

راکیش ماریا کی کتاب میں ان انکشافات کے بعد سیاسی بیان بھی آنا شروع ہو گئے۔

یونین وزیر پیوش گوئل نے کہا ’ماریا اب یہ سب باتیں کیوں بول رہے ہیں۔ انھیں یہ سب باتیں تب کہنی چاہییں تھی جب وہ پولیس کمشنر تھے۔ درحقیقت سروس قوانین کے مطابق اگر سینیئر پولیس آفیسر پر لازم تھا کہ وہ ایسی معلومات کو خفیہ رکھیں تو انھیں اس پر عمل کرنا چاہیے۔

’میرے خیال میں کانگریس نے ایک گہری سازش کی ہے۔ میں کانگریس اور ان سب افراد کی مذمت کرتا ہوں جنھوں نے ہندو دہشت کے غلط الزامات سے ملک کو گمراہ کرنے کی کوشش کی۔ دہشتگردی کا کوئی مذہب نہیں۔‘

بی جے پی کے رہنما رام مادھو نے کہا ہے ’یہ کتاب ظاہر کرتی ہے کہ آئی ایس آئی کی سازش کامیاب نہیں ہوئی لیکن کانگریس کے کچھ لوگوں نے اسے اس وقت میں کامیاب بنانے کی کوشش کی۔ کچھ دانشوروں نے ممبئی حملوں کو آر ایس ایس سے منسوب کرنے کی کوشش کی، ان لوگوں کو کانگریس کی رہنمائی حاصل تھی۔‘

ممبئی کا تاج محل ہوٹل
Image captionممبئی کا تاج محل ہوٹل بھی 26 نومبر 2008 کو دہشت گردوں کے حملے کا نشانہ بنا تھا

کانگریس کی جانب سے ، ادھیر رنجن چودھری نے پیوش گوئل کے بیان پر ردعمل دیا۔ انھوں نے کہا کہ ‘ہندو دہشت گردی’ کی اصطلاح کو ایک مختلف نقطہ نظر میں استعمال کیا گیا تھا۔ اس کے بعد پرگیہ ٹھاکر اور دیگر کو مکہ مسجد دھماکے کے کیس میں گرفتار کیا گیا۔ دہشت گرد حقیقی شناخت کے ساتھ حملہ نہیں کرتے ہیں۔ یو پی اے حکومت نے حملے سے متعلق تمام انکشافات کیے تھے اور اسی کے دور حکومت میں قصاب کو پھانسی دی گئی تھی۔

مہاراشٹر کے وزیر داخلہ اور این سی پی رہنما انیل دیش مکھ نے ماریا کی کتاب پر کہا ہے کہ ’راکیش ماریا نے اپنی کتاب میں جو لکھا ہے اس سے متعلقہ معلومات اکٹھا کریں گے۔ ہم ان سے بات کریں گے اور فرنویس حکومت کے دور میں ہونے والے واقعات کے بارے میں جاننے کی کوشش کریں گے۔ اگر ضرورت ہو تو ، ہم انکوائری کا حکم دیں گے۔‘

بی جے پی کے رہنما جی وی ایل نرسمہا راؤ نے کہا، ’ہم کانگریس کے ‘ہندو دہشت گردی’ کے خیال اور لشکر- آئی ایس آئی کے 26/11 حملے کی سازش کے مابین تعلق دیکھ سکتے ہیں۔ کیا ہندوستان کا کوئی ہینڈلر آئی ایس آئی کی مدد کر رہا ہے، کیا دہشت گردوں کو ہندو شناخت دے رہے تھے، کیا دگ وجے سنگھ بطور ہینڈلر کام کررہے تھے، کانگریس کو اس کا جواب دینا چاہیے۔‘

بی بی سی اردو