شام:ترکی کسی بھی لمحے عفرین میں داخل ہوسکتا ہے، اردوگان

ترکی کے صدر رجب طیب اردوگان نے شام کے ایک اہم اسٹریٹجک قصبے پر قبضے کے ایک روز بعد ہی اعلان کردیا ہے کہ ترک فورسز اور اتحادی جنگجو کسی بھی لمحے کردوں کے زیرتسلط علاقے عفرین میں داخل ہوسکتے ہیں۔

انقرہ میں حکمراں جماعت کے اجلاس میں طیب اردوگان نے کہا کہ ‘اب ہمارا مقصد عفرین ہے، ہم عفرین کو گھیر چکے ہیں اور ان شااللہ کسی بھی لمحے ہم عفرین میں داخل ہوسکتے ہیں’۔

خیال رہے کہ ترک افواج نے ایک روز قبل ہی عفرین کے مغرب میں واقع قصبے جندیرس میں قبضہ کرلیا تھا۔

ترک صدر نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ‘عفرین میں آپریشن اس وقت تک جاری رہے گا جب تک یہ دہشت گردی ختم نہیں ہوتی’۔

یاد رہے کہ ترکی کی جانب سے 20 جنوری کو کردش پیپلز پروٹیکشن یونٹس (وائی پی جی) کے خلاف ان کے زیر قبضہ علاقے عفرین میں آپریشن ‘اولائیو برانچ’ کا آغاز کیا تھا جس کو ترکی ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیتا ہے۔

عفرین میں جاری اس آپریشن میں اب تک ترکی کے 42 فوجی اپنی جانیں گنوا چکے ہیں تاہم ترک فوج اور شام میں موجود ان کے اتحادیوں نے کئی علاقوں میں قبضہ کرکے آپریشن میں نئی روح پھونکی ہے۔

جندیریس کا قبضہ حاصل کرکے ترکی اور ان کے اتحادی عفرین میں قبضے کے اپنے مقصد کے بہت قریب پہنچ گئے ہیں اور ماہرین کا خیال ہے کہ ترکی کو اپنے مقصد کے حصول کے لیے راستہ صاف ہو چکا ہے۔

دوسری جانب ترکی کے اس آپریشن سے ان کے امریکا کے ساتھ تعلقات میں بھی کشیدگی پیدا ہوئی ہے کیونکہ جس ملیشیا کے خلاف ترکی کارروائی کررہا ہے وہ نیٹو میں شامل ایک ملک کی اتحادی ہے۔
اردوگان نے اپنے پرانے موقف کو دہراتے ہوئے کہا ہے کہ ترکی اس دہشت گردی اور وائی پی جی کے اثر ورسوخ کو ختم کرنے کے لیے عفرین تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس کا دائرہ کار مشرق میں منبج اور عراقی سرحد تک بڑھا دیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم آج عفرین میں ہیں اور کل ہم منبج میں ہوں گے اور اگلے روز ہم عراقی سرحد کے ساتھ ساتھ دریائے فرات سے ملحق علاقوں کو دہشت گردوں سے صاف کریں گے’۔

خیال رہے کہ منبج کا معاملہ امریکا کے لیے بھی نہایت اہم ہے جہاں امریکا خود موجود ہے جس کے باعث خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ ترکی کے وہاں پہنچنے کی صورت میں دونوں ممالک کے درمیان براہ راست تصادم ہوگا۔

امریکا کے وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن نے گزشتہ ماہ ترکی کے دورے میں کہا تھا کہ ترکی اور امریکا کو منبج کے معاملے پر چھائی کشیدگی کو ‘ترجیحی’ بنیادوں پر حل کرنے ضرورت ہے۔