فوٹو: بشکریہ سی نیٹ

شگر کے مریضوں کو خون میں شکر کی مقدار جانچنے کے لیے ایک بوند خون درکار ہوتا ہے جو انگلی پر باریک سوئی مار کر حاصل کیا جاتا ہے   اور اسے ایک خاص پٹی پر لگا کر شکر کی مقدار جانی جاتی ہے۔

لیکن جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے اس روایتی اور تکلیف دہ طریقے سے نجات دلانے کے لیے ایک بہترین حل تلاش کرلیا گیا ہے۔

متعدد ٹیکنالوجی کمپنیاں خون میں شکر کی مقدار جاننے کے لیے ایک ایسے طریقے پر کام کر رہی ہیں جس میں خون کا نمونہ دیے بغیر شکر کی مقدار معلوم کی جاسکتی ہے۔

جاپانی کمپنی کیوسیرا بھی اسی طرح کی ٹیکنالوجی پر کام کر رہی ہے جب کہ کمپنی نے اعتراف کیا ہے کہ وہ بلڈ شوگر کی پیمائش کرنے کے لیے فی الحال تیار نہیں ہے۔

یہ نئی ٹیکنالوجی مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلیجنس) کا استعمال کرتے ہوئے خون میں شکر کی مقدار بتائے گی، اس ٹیکنالوجی پر ابھی مزید کام ہورہا ہے جسے ’کنزیومر الیکٹرانک شو 2020‘ میں پیش کیا گیا ہے۔

فوٹو: بشکریہ سی نیٹ

کنزیومر الیکٹرانک شو میں پیش کی جانے والی ’گلوٹریک‘ جو کہ ایک اسمارٹ واچ ہے، یہ خون میں موجود شکر کی مقدار بتاتی ہے۔

اس واچ کو ہانک کانگ کی ایڈکیئر کی جانب سے بنایا گیا ہے، یہ واچ دل کی دھڑکن کو جانچنے کے بعد آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا استعمال کرتے ہوئے خون میں موجود شکر کی مقدار بتاتی ہے۔

اس واچ کی پشت پر ایسے سینسرز نصب کیے گئے ہیں جو ہر 15 منٹ بعد صحت سے متعلق ڈیٹا کا ریکارڈ بناتا ہے جب کہ اس واچ میں ایک عدد فنگر سینسر بھی موجود ہے جس کے ذریعے آپ ریڈنگز حاصل کر سکتے ہیں۔

اس پورے مرحلے میں صارف کو خون کی شکر کی مقدار کو معلوم کرنے میں ایک منٹ کا وقت لگے گا۔

اس ڈیوائس کو ان افراد کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے جو ’پری ڈائبیٹک‘ ہیں اور وہ یہ نہیں چاہتے کہ انگلی پر سوئی مار کر خون میں موجود شکر کی مقدار کو معلوم کریں۔

یہ ڈیوائس ایسے لوگوں کے لیے نہیں بنائی گئی ہے جو پہلے ہی ذیابطیس کا شکار ہیں کیونکہ ذیابیطس میں مبتلا مریضوں کو خون میں موجود شکر کی مقدار کو باقاعدگی سے جاننا ہوتا ہے۔

اس ڈیوائس کو پری ڈائیبیٹک یعنی ایسے لوگوں کے لیے بنایا گیا ہے جنہیں ذیابیطس ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔

یہ ڈیوائس متوقع طور پر اسی سال جاپان کی مارکیٹ میں پیش کی جائے گی فی الحال یہ آزمائشی مرحلے میں ہے

جیو نیوز