کرونا وائرس تخلیق کیا گیا اور اب اسے بائیولوجیکل وار فیئر بنا دیا گیا ہے، تفصیلات کے مطابق سینیٹر رحمان ملک نے انکشاف کرتے ہوئے کہاکہ امریکہ کے پاس موجود پوائزنما یہ کیپسول کی صورت میں اگر کوئی بندہ نگل لے تو اس کو دل کا دورہ پڑتا ہے اوروہ مرجاتا ہے اور بچ ہی نہیں سکتا۔ رحمان ملک کا کہنا تھا کہ میرا اندازہ ہے کہ کرونا وائرس انسان کا خود تخلیق کیا گیااور اس کو مختلف جگہوں پر داخل کیا گیا اور یہ وہاں اتنی تیزی سے پھیلا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے یہ

نہیں پتا کہ یہ وائرس کس نے بنایا ہے تاہم یہ وائرس اس پوزیشن میں ہے کہ اس میں دنیا کو جزوی طور پر مفلوج کرنے کی صلاحیت موجود ہے اور اس نے پورے چین کو مفلوج کر دیا ہے۔ رحمان ملک کا کہنا تھا کہ سوچی سمجھی سازش کے تحت چین کو کرونا وائرس کا آئیکون بنایا جا رہا ہے اور اگر کوئی چینی باہر نظر آئے گا تو لوگ اس سے ہاتھ ملانے سے گریز کریں گے، پاکستان اور چین کو مل کر اس وائرس کو کنٹرول کرنا چاہئے اور پاکستانی ڈاکٹروں کی ٹیمیں محفوظ راستے سے چین جانی چاہئیں جو ان کی مدد کریں اور دونوں ملک مل کر اس وائرس کی تفتیش کریں کہ یہ کہاں سے آیا اور اس وقت اس کی موجودگی کہاں، کہاں ہے اور مل کر دیکھیں کہ اس کا خاتمہ کیسے ہو سکتا ہے۔ رحمان ملک نے کہا کہ اگر بائیولوجیکل وار فیئر شروع ہو گئی تو میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ ففتھ جنریشن سے نکل کر سکستھ جنریشن میں چلی جائے گی، یعنی اب بم استعمال نہیں ہوں گے بلکہ اپنی جیب یا بریف کیس میں پانچ، سات سرنجیں لے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں بائیولوجیکل اور کیمیکل وارفیئر اور پھر اس کی جدید صورتحال سامنے آ گئی، اس کو روکنا چاہئے اور میری تو تجویز ہے اس پر قانون بنانا چاہئے کہ وائرس کا پیدا کرنا، وائرس کو آگے پھیلانا اس کی کسی ملک کو اجازت نہیں ہونی چاہئے، اس کو جنگی جرائم میں شامل کرکے اقوام متحدہ اس پر اپنا فیصلہ دے اور سارے ملک اس پر عملدرآمد کریں۔