عمران خان نے 2007ء میں جو کچھ کہا تھا، گزشتہ روز وہی ہوا اور پاکستان نے ایک نئی تاریخ رقم کی۔ ہو سکتا ہے خان صاحب بھول گئے ہوں کہ اُنہوں نے ایسا کیا کہا تھا جو واقعی تاریخ ساز ہے، اس لیے اُن کی یاددہانی اور تحریک انصاف کے رہنمائوں کی اطلاع کے لیے میں یہاں خان صاحب کی وہ بات پیش کر رہا ہوں۔

اپنے ایک ٹی وی انٹرویو میں عمران خان نے کہا تھا ’’جنرل مشرف نے high-treason commit (سنگین غداری کا ارتکاب کیا ہے) کی ہے۔ پہلے تو انہوں نے ایمرجنسی لگائی جو سپریم کورٹ نے Strike downکی جس کے بعد انہوں نے سپریم کورٹ کے ججوں کو باہر نکال دیا جس پر ان پر سیدھا سیدھا آرٹیکل 6لگتا ہے جس کی سزا پھانسی ہے‘‘۔

خصوصی عدالت نے چھ سال کیس سننے اور ایک سو پچیس تاریخوں کے بعد جو فیصلہ گزشتہ روز دیا وہ بالکل وہی تھا جو عمران خان نے 3نومبر 2007ء کی ایمرجنسی کے فوری بعد سنا دیا تھا۔

خان صاحب نے فیصلہ آنے کے بعد خود تو اس مسئلے پر ابھی تک کوئی بات نہیں کی لیکن تحریک انصاف کے رہنمائوں اور حکومت کا جو ردعمل آ رہا ہے، اُس سے ظاہر ہو رہا ہے کہ نہ صرف وہ اپنے رہنما کی 12سال پرانی کہی ہوئی بات، جو آج سچ ثابت ہوئی، کو بھول چکے ہیں بلکہ وہ اس انداز میں جنرل مشرف کا دفاع کر رہے ہیں کہ بلاول بھٹو زرداری تک نے ایک ٹویٹ کے ذریعے عمران خان کو توجہ دلاتے ہوئے طنزاً پوچھ لیا ’’ابو بچائو مہم کون چلا رہا ہے؟‘‘۔

فیصلے کی رات وزیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان اور اٹارنی جنرل انور منصور جب مشرف کے دفاع پر اور فیصلے کے خلاف بول رہے تھے تو ایک لمحے کے لیے یوں لگا جیسے مشرف کے ہی ساتھی اُس آمر کا دفاع کر رہے ہیں جسے عدالت نے سنگین غداری کا مرتکب قرار دیتے ہوئے موت کی سزا سنائی ہے۔

عمران خان کے وزیر ریلوے شیخ رشید جو مشرف کے بھی وزیر رہے، نے مشرف کی حب الوطنی کی قسمیں کھائیں۔ کچھ عرصہ قبل پرویز مشرف کے ترجمان اور خان صاحب کی موجودہ حکومت کے وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری بھی ٹی وی چینل پر مشرف کے خلاف فیصلے پر اپنا دکھڑا بیان کرتے سنائی دیے۔

وزیراعظم عمران خان کے مشیر ندیم افضل چن وہ واحد حکومتی اور تحریک انصاف کی شخصیت ہیں، جنہوں نے اس فیصلے پر سیخ پا ہونے والوں کو مشورہ دیا کہ صبر کریں، قانون کی حکمرانی کو تسلیم کریں اور آگے چلیں۔

اُنہوں نے خوب کہا کہ اس ملک میں وزرائے اعظم کو پھانسی بھی دی گئی، اُنہیں ملک بدر بھی کیا گیا، اُنہیں عدالتی فیصلوں کے ذریعے نکال باہر بھی کیا گیا، بینظیر بھٹو کو بھی شہید کیا گیا لیکن معاشرہ آگے چلتا رہا، کوئی رکا نہیں، بڑے بڑے واقعات ہوئے، کوئی confrontation (محاذ آرائی) کی طرف نہیں گیا، اگر ہم نے اس ملک میں رہنا ہے اور ہمارے بچوں نے یہاں رہنا ہے تو پھر ہمیں یہ سمجھنا پڑے گا کہ یہ ملک کسی ایک شخص کا یا چند افراد کا نہیں بلکہ یہ ملک اُن کا بھی ہے جن کی کوئی آواز نہیں اور جن کی سیاستدان نمائندگی کرتے ہیں، رول ماڈل سب کو بننا پڑے گا۔

ندیم افضل چن نے یہ بھی کہا جب عدالتیں فیصلہ کریں اور جن کے خلاف فیصلہ ہو، وہ ڈنڈا لے کر کھڑے ہو جائیں تو اس طرح معاملات نہیں چل سکتے، ہمیں تحمل کے ساتھ اس ملک کو آگے لے کر چلنا چاہیے، اداروں کو بیچ میں مت لائیں۔

تحریک انصاف‘ محسوس ایسا ہوتا ہے کہ چن صاحب کے علاوہ مشرف کی پارٹی میں بدل چکی ہے۔ خان صاحب ماضی میں حکومتوں پر تنقید کرتے رہے کہ مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ کیوں نہیں چلایا جاتا لیکن اپنی حکومت کے دوران اُنہوں نے پوری کوشش کی کہ خصوصی عدالت مشرف کے مقدمے کا فیصلہ نہ سنائے۔ گویا مشرف کے مارشل لا کے مسئلے پر بھی تحریک انصاف نے یوٹرن لے لیا۔

گزشتہ روز ایک ریٹائرڈ جنرل صاحب نے ایک ٹی وی ٹاک شو (جس میں مَیں بھی شامل تھا) میں فوجی ترجمان کی طرف سے مشرف کے فیصلے کے خلاف افواجِ پاکستان کے اندر پائے جانے والے غم و غصہ کی ترجمانی کو اصل صورتحال کے مقابلہ میں کم گردانا اور سوال اٹھایا کہ اس فیصلے کو فوج کیسے قبول کر سکتی ہے۔

مشرف کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اُنہوں نے پاکستان کی بہت خدمت کی جبکہ حقیقت یہ ہے کہ مشرف نے دو بار اس ملک میں اپنی ذات کی خاطر مارشل لا لگایا اور آئین سے غداری کی۔ باقی جو اُنہوں نے اقتدار میں آنے کے بعد کیا، اُس بارے میں میرا مشرف کو ہیرو سمجھنے والوں کو مشورہ ہے کہ وہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ شاہد عزیز کی کتاب ’’یہ خاموشی کہاں تک؟‘‘ پڑھ لیں کہ مشرف نے پاکستان کے ساتھ کیا کھیل کھیلا۔

اس کتاب میں نہ صرف مشرف کی 1999 کا مارشل لا لگانے کی پلاننگ کے بارے میں پوری تفصیل موجود ہے، جس کے گواہ خود جنرل شاہد عزیز تھے بلکہ نائن الیون کے بعد جس طرح پاکستان کو امریکہ کے ہاتھوں بیچا گیا اُس کے بارے میں بھی بہت کچھ لکھا گیا ہے جسے پڑھ کر سر شرم سے جھک جاتا ہے۔

گویا جیسے چن صاحب نے کہا کہ کسی ایک فرد کے جرم کو نہ تو اداروں کے سا تھ جوڑنا چاہئے، نہ ہی اداروں کی طرف سے کسی مجرم کی حمایت ہونی چاہیے، یہی وہ اصل سمجھنے کی بات ہے جو اس ملک میں قانون کی حکمرانی اور آئین کی بالادستی کے لیے ضروری ہے۔

آج (جمعرات) کو جنرل مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کا جو تفصیلی فیصلہ سامنے آیا اُس میں ایک جج صاحب کی طرف سے تین دن تک ڈی چوک پر لاش لٹکانے کی بات نے غیر ضروری طور پر ایک ایسا ماحول پیدا کر دیا جس کی وجہ سے ایک ایسا فیصلہ جو تاریخی نوعیت کا تھا، پیچھے چلا گیا کیونکہ میڈیا اب صرف اُس نکتے پر بات پر کر رہا ہے جو دراصل ایک جج کی رائے ہے نہ کہ فیصلہ

جنگ