ابوظبی کے ولی عہد شیخ محمد بن زاید بن سلطان آل نہیان نے اتوار کے روز پاکستان کا مختصر دورہ کیا۔ انھوں نے وزیراعظم عمران خان اور دوسرے اعلیٰ عہدے داروں سے ملاقات کی ہے اور ان سے دونوں ملکوں کے درمیان دو طرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے اور باہمی دلچسپی کے اہم علاقائی اور عالمی امور پر بات چیت کی ہے۔ انھوں نے پاکستان کے لیے تین ارب ڈالرز کی امداد کا اعلان کیا ہے۔

ابوظبی کے ولی عہد کی روانگی کے بعد جاری کردہ ایک مشترکہ بیان کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے پاکستان کے لیے تین ارب ڈالرز کی ’’ فراخدلانہ ‘‘ امداد پر شکریہ ادا کیا ہے۔اس رقم سے پاکستان کو ادائیوں کا توازن بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے حکام نے گذشتہ ہفتے چھے ارب بیس کروڑ ڈالرز کے ایک امدادی پیکج پر مذاکرات کیے تھے اور اسلام آباد کے لیے اس امدادی پیکج کے شرائط وضوابط کو حتمی شکل دی تھی۔ شیخ محمد بن زاید کے دورے کے موقع پر اسی پیکج میں سے تین ارب ڈالرز دینے کا ا علان کیا گیا ہے۔

ابوظبی کے ولی عہد کا بارہ سال کے بعد پاکستان کا یہ پہلا دورہ تھا۔ان کے اعزاز میں وزیراعظم ہاؤس میں استقبالیہ تقریب منعقد کی گئی جہاں مسلح افواج کے ایک چاق چوبند دستے نے انھیں گارڈ آف آنر پیش کیا اور پاک فضائیہ کے جے ایف 17 تھنڈر طیاروں نے فضائی سلامی پیش کی۔

اس سے پہلے جب وہ نور خان ائیربیس پر پہنچے تو ان کا شاندار خیر مقدم کیا گیا اور انھیں اکیس توپوں کی سلامی دی گئی۔ چک لالہ میں واقع اس ہوائی اڈے سے وزیراعظم عمران خان تمام پروٹوکول کو بالائے طاق رکھ کر خود گاڑی چلا کر انھیں وزیراعظم ہاؤس تک لائے۔ دونوں رہ نماؤں نے آمد کے فوری بعد ون آن ون ملاقات کی اور اس کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان وفود کی سطح پر بات چیت کی گئی اور انھوں نے دونوں ممالک کے درمیان تزویراتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

شیخ محمد کی آمد پر اسلام آباد اور اس کے جڑواں شہر راول پنڈی کی شاہراہوں کو رنگارنگ جھنڈیوں اور بینروں سے سجایا گیا تھا اور پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان شاندار دوستانہ تعلقات کے حوالے سے عبارتوں پر مبنی بل بورڈز اور پینافلکس آویزاں کیے گئے تھے۔