پاکستان کو مشکل کی اس گھڑی میں چین کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے، حکومت چین کو ماسک اور سرجیکل آلات بھیجنے کے لیے اقدامات اٹھائے، سینیٹرز کا مطالبہ— فوٹو: فائل

سینیٹر راجا ظفر الحق کا کہنا ہے کہ ہمارے ائیرپورٹس پر بخار چیک کیا جارہا ہے، کورونا میں بخار تو آخری اسٹیج پر آتا ہے۔

سینیٹ میں سوال و جواب کے سیشن میں راجا ظفر الحق نے کہا کہ ہمارے ائیرپورٹ پر بخار چیک کرکے کہہ دیتے ہیں کہ بندہ ٹھیک ہے، کورونا میں تو بخار آخری اسٹیج پر آتا ہے۔

سینیٹرز نے کہا ہے کہ پاکستان کو مشکل کی اس گھڑی میں چین کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے، حکومت چین کو ماسک اور سرجیکل آلات بھیجنے کے لیے اقدامات اٹھائے۔

قائد ایوان سینیٹر شبلی فراز نے سینیٹ کو بتایا کہ پاکستان میں کسی لیب نے اب تک کورونا وائرس کا کوئی کیس کنفرم نہیں کیا۔ این آئی ایچ میں کورونا وائرس تشخیص کی تمام سہولیات فراہم کر دی گئی ہیں۔

قائد حزب اختلاف راجا ظفر الحق نے کہا کہ چین پر آفت آئی ہے جس کا ان کے پاس علاج نہیں لیکن ہماری حکومت انہیں کہہ رہی ہے کہ آپ ہمارے لوگوں کی بھی خبر گیری کریں یہ مناسب رویہ نہیں ہے۔ چینی صدر کے مسجد جانے کے اقدام کو خوش آمدید کہتے ہیں۔

سینیٹر مشاہد اللہ خان نے کہا کہ چین نے ہر برے وقت میں ہمارا ساتھ دیا، پوری قوم چین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرے ۔

سینیٹر ایوب آفریدی نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے ماسک کی ایکسپورٹ پر پابندی لگا دی ہے، اس سے بالکل اچھا پیغام چین کو نہیں جائے گا۔

مشاہد حسین سید نے کہا کہ صدرعارف علوی چینی صدر اور وزیراعظم چینی ہم منصب کو ٹیلی فون کریں۔ چین سے ماسک کی بہت درخواست آ رہی ہے۔ پاکستان چین کو ماسک اور سرجیکل آلات بھیجے ۔

سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ چین ماسک ایکسپورٹ کرنے کے حوالے سے بات کریں گے، یہ ہماری طرف سے اچھا اقدام ہوگا ۔

علاوہ ازیں سینیٹر مشاہد اللہ نے سوال کیا کہ وزیراعظم بتائیں کونسا مافیا ہے جو آٹے اور چینی بحران میں ملوث ہے؟ وزیراعظم شاید اس لیےایکشن نہیں لے رہے کیونکہ ملوث افراد ان کےارد گرد بیٹھے ہیں۔