گیارہ ستمبر کے واقعات کے بعد مغرب میں جس طرح سے مسلمانوں کو دہشت گرد تصور کیا جاتا ہے اور ان کے ساتھ انسانی حقوق کے یہ علمبردار جس طرح کا سلوک کرتے ہیں وہ کوئی پوشیدہ بات نہیں ہے ماضی بعید میں ہر مسلمان کو القاعدہ کا ایجنٹ قرار دیا جاتا تھا جب کہ اب آئی ایس آئی ایس نامی تنظیم کا ہرکارہ بنا ڈالا جا تا ہے

ایسا ہی ایک واقعہ حالیہ دنوں میں رپورٹ ہوا جس کو  ہاورڈ یونی ورسٹی کی گریجویٹ ایک طالبہ زینب مرچنٹ نے رپورٹ کیا ہے زینب مرچنٹ جو کہ زینب رائٹس نامی ایک ویب سائٹ کی خالق اور ایڈیٹر ہیں کسی پروگرام میں شرکت کے ارادے سے جب بوسٹن سے بیویارک جانے کے لیۓ ائیر پورٹ گئيں تو ائیر پورٹ سیکیورٹی ادارے کے ارکان نے نہ صرف ان کے ساتھ تلاشی کے نام پر انتہائی بد سلوکی کی

بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اس سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ وہ اپنی پینٹ اور زیر جامہ اتار کر اپنے حیض آلود پیڈ بھی دکھائیں جب زینب مرچنٹ نے اس حوالے سے انکار کیا تو ان کو بزور طاقت علیحدہ کمرے میں لے جایا گیا اور ان سے کہا گیا کہ اگر انہوں نے یہ مطالبہ پورا نہ کیا تو پولیس کو بلا کر ان کے ساتھ زبر دستی بھی کی جا سکتی ہے

اس موقعے پر زینب مرچنٹ نے جب ان عہدے داروں سے ان کے نام اور شناخت جاننا چاہی تو انہوں نے اپنے بیجز چھپا لیۓ اور اپنی شناخت ظاہر کرنے سے بھی اجتناب کیا اس حوالے سے زينب مرچنٹ کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس کو اس کے وکیل سے بھی رابطہ کرنے کی اجازت نہیں دی گئی

اس حوالے سے زينب نے چودہ اگست کو ائیر پورٹ سیکیورٹی ارکان کے خلاف ایک شکایت بھی درج کروادی ہے زينب مرچنٹ کا اس حوالے سے یہ بھی کہنا تھا کہ اب مسلمانوں کے خلاف یہ زيادتی بند ہو جانی چاہیۓ اور وہ نتائج سے بے پرواہ ہو کر اپنی اس شکایت کو فالو کریں گی اور ذمہ داروں کو سزا دلوائيں گی چاہے اس کے لیۓ انہیں کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑے

مفربی ممالک میں عوام کے ساتھ اور خصوصا مسلمانوں کے ساتھ اس طرح کا یہ سلوک کوئي نئی بات نہیں ہے مگر کسی لڑکی کے حیض آلود پیڈ کے معائنے کی فرمائش کرنا انسانی حقوق کی بھی سنگین خلاف ورزی ہے جس کے خلاف آواز اٹھانا اور زینب کا ساتھ دینا سب کا فرض بنتا ہے

Source