پاکستانی مسیحی خاتون آسیہ بی بی اور اسکے خاندان کو جرمنی نے رہائشی ویزا جاری کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ اس بات کی تصدیق جرمن رکن پارلیمان پروفیسر ہیریبرٹ ہِرٹے نے ایک جرمن ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے کی ہے۔ جرمن پارلیمان میں یونین جماعتوں سی ڈی یو اور سی ایس یو کے دھڑے کے سربراہ پروفیسر ہیریبرٹ ہِرٹے نے جرمنی کے ڈوم ریڈیو سےگفتگو کرتے ہوئے کہا

کہ ان کی تازہ اطلاعات کے مطابق جرمن حکومت نے آسیہ بی بی اور ان کے خاندان کے افراد کو جرمنی کا رہائشی ویزہ دینے کی اجازت دے دی ہے۔ ہِرٹے کے مطابق اب یہ فیصلہ آسیہ بی بی اور ان کے خاندان نے کرنا ہے کہ آیا وہ جرمنی آنا چاہتے ہیں یا نہیں۔یاد رہے کہ آسیہ بی بی کے وکیل سیف الملوک نے منگل 20 نومبر کو جرمن شہر فرینکفرٹ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ جرمن حکومت کو آسیہ بی بی کی مدد کرنی چاہیے اور انہیں جرمنی کا ویزا فراہم کرنا چاہیے۔ سیف الملوک کے مطابق اگر جرمن حکومت آسیہ بی بی اور ان کے خاندان کو ویزا دے دیتی ہے تو پھر انہیں پاکستان سے نکلنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔پروفیسر ہیریبرٹ ہِرٹے کا مزید کہنا تھا کہ فرانس، برطانیہ اور کینیڈا بھی آسیہ بی بی کو اسی طرح کی پیشکش کر چکے ہیں۔ اس طرح اب ان کے پاس اس بات کی چوائس موجود ہے کہ وہ کس مغربی ملک میں رہنا چاہتی ہیں۔ہیربرٹ ہِرٹے کے مطابق جرمن حکومت پاکستان حکام کے ساتھ رابطہ کر کے مزید فیصلہ کرے گی۔خیال رہے کہ آسیہ بی بی کو پاکستانی سپریم کورٹ نے چند ہفتوں قبل توہین مذہب کے الزام سے بری کرتے ہوئے ان کے لیے سزائے موت کا فیصلہ ختم کر دیا تھا۔