سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن کراچی عملدرآمد کیس میں بحریہ ٹاؤن کے اکاؤنٹ کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے فیصلہ آنے تک کسی قسم کی الاٹمنٹ کرنے اور رقم وصول کرنے سے ایک مرتبہ پھر روک دیا۔

جسٹس شیخ عظمت سعید پر مشتمل 3 رکنی خصوصی عملدرآمد بینچ نے کیس کی سماعت کی، اس دوران وکیل بحریہ ٹاؤن علی ظفر پیش ہوئے۔

انہوں نے عدالت کو بتایا کہ بحریہ ٹاون سپریم کورٹ کے فیصلے پر من و عن عملدرآمد کر رہی ہے اور فیصلے کی خلاف ورزی نہیں کی گئی۔

علی ظفر نے کہا کہ میں آپ کو اس کیس کی تاریخ بتانا چاہتا ہوں،جس پر جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیے کہ ہمیں تاریخ نہ بتائیں بلکہ احتساب سے کام لیں، کہیں لینے کے دینے نہ پڑ جائیں۔

جسٹس عظمت سعید نے استفسار کیا کہ کیا آپ نے کوئی اراضی تو منتقل نہیں کی، اس پر وکیل نے کہا کہ نہ ہی اراضی منتقل کی نہ ہی عدالتی حکم کے بعد الاٹیز سے کوئی رقم وصول کی۔

اس پر عدالت نے پوچھا کہ آپ کا کل رقبہ کتنا ہے؟ جس پر وکیل نے بتایا کہ کل 18 ہزار ایکڑ ہے اور اس میں سے 7 ہزار 68 ایکڑ سندھ حکومت سے ملا تھا جبکہ عدالتی حکم پر یہ اراضی سندھ حکومت کو واپس کردی گئی ہے۔

جسٹس عظمت سعید شیخ نے استفسار کیا کہ کیا تعمیرات کر رہے ہیں، اس پر علی ظفر نے کہا کہ80 فیصد تعمیرات ہو چکی ہیں اس لیے چاہتے ہیں کہ اسے مکمل کر لیں۔

وکیل کے جواب ہر عدالت نے استفسار کیا کہ اب تک جو رقم الاٹیز سے وصول کی ہے کیا وہ جمع کروائی ہے، جس پر علی ظفر نے کہا کہ کراچی برانچ کے ایڈیشنل رجسٹرار کے اکاؤنٹ میں رقم جمع کروانی تھی لیکن اکاؤنٹ نہ ہونے کی وجہ سے ابھی تک رقم جمع نہ ہوسکی۔

علی ظفر نے کہا کہ الاٹیز کا تعلق ملک بھر سے ہے وہ ایک اکاؤنٹ میں رقم جمع نہیں کروا سکتے اس کے لیے مزید اکاؤنٹس درکار ہونگے، جس پر جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ آپ نے کون سی نقد رقم جمع کروانی ہے عدالت نے پے آرڈر جمع کروانے کا حکم دیا تھا،عدالتی حکم میں پے آرڈر ہے تو آپ کو پے آرڈر ہی جمع کروانے ہوں گے۔

دوران سماعت سرمایہ کار کے وکیل زاہد بخاری نے کہا کہ آپ لوگ ظلم کر رہے ہیں، تمام لوگ پڑھے لکھے نہیں، بحریہ ٹاون میں انگوٹھا چھاپ سرمایہ دار ہیں، جنہیں پے آرڈر کا علم نہیں، آپ ہمیں عدالتی حکم کی الجھنوں میں کیوں پھنسا رہے ہیں۔

اس پر جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ ہم یہاں نظرثانی پر نظرثانی نہیں کرسکتے، عدالتی حکم پر عمل ہوگا، جس پر وکیل سرمایہ دار نے کہا کہ میں نقد رقم دینا چاہتا ہوں عدالت مجھے کیسے مجبور کر سکتی ہے کہ نقد رقم نہ دوں۔

وکیل کے جواب پر جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ اگر عدالتی فیصلہ قابل عمل نہیں تو دوسرا آپشن استعمال کرلیں، لگتا ہے آپ کیس آرام سے نہیں چلانے دیں گے۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ بحریہ ٹاؤن کے سربراہ ملک ریاض نے بیان حلفی جمع کروایا کہ انہوں نے عدالتی حکم کے بعد کوئی رقم وصول نہیں کی اور نہ ہی کوئی الاٹمنٹ کی گئی۔

اس موقع پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ آئندہ کسی قسم کی الاٹمنٹ کی جائے نہ کوئی رقم وصول کی جائے جبکہ سروے جنرل آف پاکستان گوگل امیج کے ذریعے بحریہ ٹاؤن کی حدود اور کل اراضی پر رپورٹ دے، اگر اراضی بڑھ گئی تو پھر آپ دیکھ لیجئے گا۔

عدالت نے بحریہ ٹاؤن کے اکاؤنٹس کی تفصیلات پش کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ اراضی کی کل مالیت کتنی تھی، ڈیولپمنٹ چارجز کیا تھے، سب بتایا جائے۔

ساتھ ہی عدالت نے حکم دیا کہ الاٹیز سے کتنی رقم وصول کی گئی اور تعمیرات پر کتنی خرچ ہوئی آئندہ سماعت پر رپورٹ دی جائے۔

بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت 29 نومبر تک ملتوی کرتے ہوئے بحریہ ٹاؤن کے آڈیٹر سے آڈٹ رپورٹ طلب کرلی، ساتھ ہی ہدایت کی کہ بحریہ ٹاون تمام الاٹیز سے رقم وصول کر کے پے آرڈر ایڈیشنل رجسٹرار کراچی کو جمع کروائے۔

خیال رہے کہ 4 مئی 2018 کو سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن کو سرکاری زمین کی الاٹمنٹ اور تبادلے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے بحریہ ٹاؤن کراچی کو رہائشی، کمرشل پلاٹوں اور عمارتوں کی فروخت سے روک دیا تھا۔

جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے 1-2 کی اکثریت سے بحریہ ٹاؤن اراضی سے متعلق کیسز پر فیصلہ سناتے ہوئے اس معاملے کو قومی احتساب بیورو (نیب) کو بھیجنے اور 3 ماہ میں تحقیقات مکمل کرکے ذمہ داران کے خلاف ریفرنسز دائر کرنے کا حکم دیا تھا۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا تھا کہ بحریہ ٹاؤن کو اراضی کا تبادلہ خلاف قانون تھا، لہٰذا حکومت کی اراضی حکومت کو واپس کی جائے جبکہ بحریہ ٹاؤن کی اراضی بحریہ ٹاؤن کو واپس دی جائے۔

عدالت کی جانب سے ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی زمین کی غیر قانونی الاٹمنٹ کی تحقیقات کا بھی حکم دیا گیا تھا جبکہ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار سے درخواست کی گئی کہ وہ اس فیصلے پر عمل درآمد کے لیے خصوصی بینچ تشکیل دیں۔

بعد ازاں عدالت کی جانب سے بحریہ ٹاؤن کراچی کیس میں دیے گئے فیصلے پر عمدرآمد کےلیے ایک خصوصی بینچ تشکیل دیا گیا تھا۔