قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے کہا ہے کہ  مجھ سمیت کوئی بھی سیاستدان خواجہ آصف کی نااہلی سے خوش نہیں ،  آئین کا آرٹیکل 62 اور 63 کالا قانون ہے اور خواجہ آصف کی نااہلی کے پیچھے ضیاالحق کی مہربانیاں ہیں۔    میڈیا سے بات کرتے ہوئے خورشید شاہ نے کہا کہ مجھ سمیت کوئی بھی سیاستدان خواجہ آصف کی نااہلی سے خوش نہیں ، کسی بھی پارٹی سے ورکر نکل جائے تو ضرور افسوس ہوتا ہے،آرٹیکل 62 کے تحت جسے نا اہل کیا جاتا ہے اس میں جھوٹ کا عنصر شامل ہوتا ہے، پاکستان کی سیاست پارلیمانی ہونی چاہیے، پارلیمنٹ کو اپنے فیصلے خود کرنے چاہیے، ججز کو بھی سیاسی معاملات کو سیاسی رکھنا چاہیے،  بہتر ہوتا کہ معاملہ پارلیمنٹ کو بھیج دیا جاتا۔خورشید شاہ نے کہا کہ آئین کا آرٹیکل 62 اور 63 کالا قانون ہے، خواجہ آصف کی نااہلی کے پیچھے ضیاالحق کی مہربانیاں ہیں، ضیا الحق نے جیتے جی کسی سیاستدان کو نہیں بخشا اور مرنے کے بعد بھی نہیں بخش رہا،اب تو اس قانون سے ضیاء الحق کے بچے بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ نواز شریف سے بار بار اس قانون کے خاتمے کا کہا لیکن انہوں نے تعاون نہیں کیا۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ کے حوالے سے قائد حزب اختلاف نے کہا کہ موجودہ حکومت میں نئی سرمایہ کاری نہیں آئی، قوم پر قرضوں کا بوجھ بڑھا دیا گیا، یہ مہنگے قرضے آنے والے وقت میں مشکلات میں اضافہ کریں گے ، حکومت ایک سال کا بجٹ پیش کر کے نئی روایت ڈال رہی ہے، ایسا کرکے حکومت پارلیمنٹ کے وقار سے کھیلنا چاہتی ہے، حکومت نے 5 سال غریبوں کو ریلیف نہیں دیا تو   مزیدکیا دے گی۔