Home Lifestyle Health & Fitness نفسیاتی بیماریاں اور ان کی وجوہات  

نفسیاتی بیماریاں اور ان کی وجوہات  

5
Sponsored

نفسیاتی بیماریاں اور ان کی وجوہات

نفسیاتی بیماری یعنی “ضیق الصدر”(دل کی تنگی)آج کل بہت عام ہے۔ ہر چھوٹا بڑا اس میں مبتلا ہے۔ دیکھ کر دکھ بھی ہوتا ہے مگر وجہ اور سب سے بڑی وجہ اور سب سے بڑی وجہ” اللہ کی رسی یعنی قرآن مجید فرقان حمید سے دوری،ایمان کی کمزوری اوراتباع سنت اور اسوۂ حسنہ پر عمل نہ کرناہے۔
ہدایت اور توحید سے دوری یعنی گمراہی اور شرک دل کی تنگی کا بڑا سبب ہے۔

علاج

اللہ کی طرف رجوع،اللہ کا ذکر پابندی سے کرناہے کیوں کہ ذکر سے ہی ” شرح صدر”ہوتا ہے اور ہر پریشانی اور غم کو دور کرنے میں عجیب تاثر حاصل ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے۔الابذ کر اللہ تطمئن القلوب
ٖفضول دیکھنے،فضول بولنے،فضول سونے،فضول کھانے اور فضول سننے کو ترک کرنا۔
حدیث نبوی ﷺ:”مسلمان ہونے کی خوبی یہ ہے کہ بے کار اور لایعنی باتوں کو چھوڑ دے۔
اپنے سے کم تر کو دیکھنا اور جو تم سے مال وغیرہ میں بہتر ہوں ان کی طرف نہ دیکھنا۔(یعنی متاثر نہ ہونا)
دل سے ان مذموم صفات کو نکالنا جو دل کی تنگی اور تکلیف کا سبب بنیں،جیسے حسد،کینہ،عداوت،غیبت،دشمنی،بے حد غصہ اور سرکشی۔
رسول ﷺ سے پوچھا گیا کہ لوگوں میں سب سے افضل کو ن ہے؟آپ ﷺ نے فرمایا:ہر پاکیزہ دل اور سچی زبان والا۔ صحابہ کرامؓ نے عرض کیا:”کل مخموم القلب و صدوق اللسان”سچی زبان والے کو تو ہم جانتے ہیں،مخموم القلب سے کیا مراد ہے؟آپﷺ نے ارشاد فرمایا:”ہر متقی گناہوں سے بچنے والا کہ اس کے دل میں کوئی گناہ سرکشی،کینہ اور حسد نہ ہو۔ (ابن ماجہ)

دل کو مضبوط رکھنا

گھبراہٹ اور پریشانی اور برے خیالات اور اوہام سے دوررکھنا،نیز حد سے زیادہ غصہ نہ کرنااور محبوب چیزوں کے زوال اور نا گوار چیزوں کے آنے کا غم نہ کرنا،بلکہ ہر کام کو اللہ تعالیٰ کے حوالے کر دینا اور ساتھ ساتھ مفیدا سباب کو اختیار کرنااور اللہ تعالیٰ سے درگز ر اور عافیت کی دعا مانگتے رہنا۔

دل کا اللہ کی ذات پر مکمل یقین،بھروسا اور حسن ظن رکھنا،اس لیے کہ اللہ تعالیٰ پر حسن ظن رکھنے والے پر کوئی اوہام اثر نہیں رکھتے۔

کسی انسان سے احسان کے بدلہ میں شکریہ کی خواہش نہ رکھے بلکہ اللہ سے طلب کرے اور یہ سمجھے کہ اس کامعاملہ اللہ کے ساتھ ہے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ترجمہ:”ہم جب تم کو کھلاتے ہیں سوخالص اللہ کی خوشی چاہیے،نہ تم سے ہم چاہیں بدلہ اور نہ چاہیں شکر گزاری۔
اپنے اہل و عیال اور اولاد کے معاملے میں بھی اس بات کو ملحوظ رکھیں۔ بلاوجہ ان پر احسان نہ دھریں۔
جو شخص بھی ان باتوں میں غور و فکر کرے اور سچائی اور اخلاص کے ساتھ ان کو اختیار کرے تو نفسیاتی امراض سے ان شاء اللہ بچے گا اور ان کو بہت مفید پائے گا۔

Comments

Sponsored
Loading...