Iran concerned over Raheel’s appointment as head of Saudi-led military alliance

                     عسکری اتحاد: راحیل شریف کی قیادت پر ایران کو تحفظات

 

ایران نے پاکستانی فوج کے سابق سربراہ جنرل راحیل شریف کی جانب سے سعودی قیادت میں بننے والے اسلامی عسکری اتحاد کی قیادت سنبھالنے کے معاملے پر اپنے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کی جانب سے پاکستان میں تعینات ایرانی سفیر مہدی ہنردوست کے حوالے سے ایک بیان میں حکومت پاکستان کی جانب سے سابق فوجی سربراہ کو قیادت قبول کرنے کے لیے این او سی جاری کرنے پر تشویش ظاہر کی ہے۔ یہ ایران کی جانب سے نئے فوجی اتحاد پر پہلا ردعمل ہے۔

انھوں نے یہ بات اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کے دوران کہی۔

یاد رہے کہ سعودی عرب کی قیادت میں بننے والے 34 اسلامی ملکوں کے اس اتحاد کے اغراض و مقاصد تفصیل سے جاری نہیں کیے گئے ہیں لیکن سعودی حکام یہ بات کہہ چکے ہیں کہ یہ اتحاد دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف کام کرے گا۔

سعودی عرب سمیت کئی خلیجی ممالک خطے میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی اور دہشت گردی کا ذمہ دار ایران کو ٹھہراتے ہیں۔

گزشتہ جمعرات کو سعودی شہر ریاض میں خلیجی ممالک کے وزراء کے اجلاس میں بحرین میں دہشت گردوں کے گروہوں کی پشت پناہی کرنے پر ایران کی مذمت کی گئی اور ایران پر زور دیا گیا کہ وہ فرقہ واریت کو ہوا نہ دے۔

اس اجلاس کے بعد جاری ہونے والے ایک بیان میں ایران کی طرف سے سلطنتِ بحرین کے بارے میں جاری ہونے والے بیانات کی جنہیں اشتعال انگیز اور غیر ذمہ دارانہ قرار دیا گیا مذمت کی گئی۔

دوسری طرف یمن میں سعودی فوجی کارروائیوں کے بارے میں عالمی سطح پر مختلف غیر سرکاری امدادی ایجنسیوں اور کئی ملکوں کی طرف سے بھی اضطراب اور تشویش کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔

گزشتہ ہفتے ہی یمن میں کارروائی کرنے والی سعودی فوج کے سربراہ احمد اسیری کے برطانیہ کے دورے کے دوران ایک ناخوشگوار واقع پیش آیا جب جنگ کے خلاف کام کرنے والی تنظیم کے رکن نے یمن میں مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر سعودی عرب کے خلاف نعرے بازی کی اور احتجاج کیا۔

نامہ نگار ہارون رشید کے مطابق پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان محمد نفیس ذکریہ سے جب ان کا ردعمل جاننا چاہا تو انھوں نے کہا کہ وہ میڈیا رپورٹس پر بات نہیں کرتے۔ لیکن جب ان سے کہا گیا کہ یہ خبر تو ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی سے جاری ہوئی ہے تو انھوں نے کہا کہ وہ اس کا جائزہ لینے کے بعد ہی کوئی ردعمل دے سکیں گے۔

مہدی ہنر دوست نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان نے ایرانی حکام سے این او سی جاری کرنے سے پہلے رابطہ کیا تھا لیکن ایران نے اس بارے میں نہ تو اپنی آمادگی ظاہر کی تھی اور نہ ہی اسے تسلیم کرنے کی بات کی تھی۔

انھوں نے بتایا کہ تہران نے اسلام آباد کو آگاہ کر دیا تھا کہ وہ کسی بھی ’عسکری اتحاد‘ جیسے اتحاد کا حصہ نہیں بنے گا تاہم ایران کو ایسے کسی اتحاد کا حصہ بننے کی دعوت موصول نہیں ہوئی ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان میں سلامتی امور کے لیے وزیر اعظم کے مشیر جنرل (ر) ناصر جنجوعہ نے چند روز قبل اسلام آباد میں صحافیوں سے ایک گفتگو میں کہا تھا کہ جنرل راحیل شریف اتحاد کی قیادت سنبھال کر ایران کو بھی اس میں شمولیت کی دعوت دیں گے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے اس سے قبل تصدیق کی تھی کہ حکومت نے جنرل راحیل کو این او سی جاری کر دیا ہے۔

مہدی ہنر دوست نے کہا کہ ان کا ملک سمجھتا ہے کہ تمام اہم اسلامی ممالک مل کر ایک متنازع فوجی اتحاد قائم کرنے کی بجائے امن کے لیے ایک اتحاد تشکیل دیں تاکہ مسائل حل کئے جاسکیں۔

خیال رہے کہ دسمبر 2015 میں دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے پاکستان سمیت 30سے زائد اسلامی ممالک نے سعودی عرب کی قیادت میں ایک فوجی اتحاد تشکیل دینے کا اعلان کیا گیا تھا۔

اس اتحاد میں ابتدائی طور پر 34 ممالک تھے تاہم بعدازاں ان کی تعداد 39 ہوگئی۔



Comments are closed